وزیراعظم شہباز شریف نے مہنگائی کے ستائے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے حکومت کے پٹرولیم سبسڈی پروگرام کو کم از کم دسمبر 2026 کے آخر تک جاری رکھنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ اس فلاحی اسکیم پر اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے تقریباً 28 ارب روپے کے اخراجات کیے جا چکے ہیں۔ اس عوامی اقدام سے براہِ راست ڈیڑھ کروڑ (15 ملین) افراد مستفید ہو رہے ہیں جبکہ ان کے خاندان کے افراد کو شامل کر کے مجموعی فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 7 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔
پٹرول کی قیمتوں میں 15 روپے اضافے کا خطرہ ٹل گیا
عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا جس سے مقامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 15 روپے فی لیٹر تک بڑھنے کی تجویز تھی۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، ان کی ٹیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) اور متعلقہ کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا جنہوں نے پٹرولیم ریفائنریز سے کامیاب مذاکرات کیے۔
اس کامیاب حکمتِ عملی کے تحت ریفائنریز کو اپنے غیر متوقع منافع کا کچھ حصہ شیئر کرنے پر راضی کیا گیا تاکہ پٹرول کی قیمتوں میں مجوزہ 15 روپے فی لیٹر کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے کے صارفین پر نہ ڈالا جائے۔ وزیراعظم کا پٹرول سبسڈی میں توسیع کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ سردیوں کے آغاز میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
کرپشن کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ سبسڈی پروگرام مجموعی طور پر انتہائی شفاف طریقے سے چلایا جا رہا ہے لیکن ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے چند پٹرول پمپس پر مالی بے ضابطگیاں اور خرد برد کی نشاندہی کی ہے۔
اس حوالے سے سخت ایکشن لیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر پٹرولیم کو فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ ایسے تمام پٹرول پمپس کو فی الفور سیل (بند) کر دیا جائے اور ان کے مالکان پر بھاری مالی جرمانے عائد کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے والے کسی بھی آؤٹ لیٹ کو معاف نہیں کیا جائے گا اور سبسڈی کی رقم براہِ راست حقداروں تک پہنچائی جائے گی۔






