پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور کو گرد و غبار سے پاک کرنے، صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور سردیوں میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ایک نئی اینٹی سموگ اور صفائی مہم چمکتا لاہور کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع کی جانے والی اس مہم کا افتتاح صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے لبرٹی چوک میں ایک پروقار تقریب کے دوران کیا۔
سڑکوں کی مکینیکل دھلائی اور اینٹی سموگ مسٹ گنز کا استعمال
اس نئی ماحولیاتی اور صفائی مہم کے تحت لاہور شہر کی 100 بڑی سڑکوں، اہم مقامات اور بڑے تجارتی بازاروں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں خصوصی صفائی آپریشنز کیے جائیں گے۔ حکومت نے ہر ہفتے تقریباً 648 کلومیٹر طویل سڑکوں کو مکینیکل واشنگ کے ذریعے دھونے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت روزانہ 100 کلومیٹر سڑکوں کی صفائی کی جائے گی۔
اس مہم کو جدید اور تیز رفتار بنانے کے لیے درج ذیل مشینری میدان میں اتاری گئی ہے:
مکینیکل واشنگ مشینز: سڑکوں کی گہری صفائی اور دھلائی کے لیے 16 بڑی مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔
رکشہ ماونٹڈ واشرز: فٹ پاتھوں اور تنگ راستوں کی صفائی کے لیے 46 رکشہ واشرز تعینات کیے گئے ہیں۔
اینٹی سموگ مسٹ گنز: ہوا میں موجود آلودگی اور مٹی کے ذرات کو بٹھانے کے لیے 10 خصوصی رکشہ مسٹ گنز کے ذریعے فضا میں پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں سموگ کی صورتحال اور حکومتی اقدامات
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اینٹی سموگ اقدامات کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سخت مانیٹرنگ اور جدید مہمات کی بدولت نومبر کے مہینے میں لاہور میں سموگ کی شدت دو سال پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
چمکتا لاہور مہم اور سموگ کا خاتمہ کرنے کا یہ منصوبہ مریم نواز حکومت کے اس وسیع البنیاد وژن کا حصہ ہے جس کے تحت نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے بلکہ صوبے بھر میں روڈ انفراسٹرکچر، ہیلتھ کیئر، تعلیم اور شہروں کی خوبصورتی کے منصوبوں پر یونین کونسل کی سطح تک کام جاری ہے تاکہ شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔






