وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے ملک بھر میں کیمرے کی خصوصیت سے لیس جدید اسمارٹ چشموں (جیسے میٹا رے بین اسمارٹ گلاسز) کی درآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اہم فیصلہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فنانس ڈویژن کے دفتر میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔
کام کی جگہوں پر پرائیویسی اور سیکیورٹی خدشات
ای سی سی کے مطابق کیمرے والے اسمارٹ گلاسز پر یہ پابندی کام کی جگہوں پر سیکیورٹی، ڈیٹا کی چوری اور نجی زندگی میں مداخلت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث لگائی گئی ہے۔ ان چشموں میں خفیہ طور پر آڈیو ریکارڈنگ اور ہائی ڈیفینیشن ویڈیو بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے جس سے دفاتر کے اندر حساس معلومات اور دستاویزات کے لیک ہونے کا شدید خدشہ رہتا ہے۔
پاکستان میں میٹا گلاسز پر پابندی کے اس فیصلے کے ساتھ ہی کمیٹی نے چاروں صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ تمام صوبے اور وفاقی دارالحکومت اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کام کی جگہوں کے لیے ایسے جامع قوانین اور ضوابط وضع کریں جو دفاتر کے اندر ان ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو مانیٹر اور کنٹرول کر سکیں۔
سمارٹ ڈیوائسز کی درآمد پر پالیسی کے اثرات
اس فیصلے کے بعد اب کسٹمز حکام پاکستان کے تمام ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر کمرشل یا ذاتی استعمال کے لیے لائے جانے والے کیمرہ سمارٹ گلاسز کی درآمد کو روکنے کے پابند ہوں گے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی جدید ترین دور کی عکاس ہے لیکن دفاتر کی رازداری اور شہریوں کے پرائیویسی حقوق کے تحفظ کے لیے اس طرح کی ڈیوائسز پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ پابندی آنے والے دنوں میں ملک کے اندر موجود ٹیک مارکیٹ اور اسمارٹ گیجٹس کے درآمد کنندگان پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔






