پاکستان کی مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) فائٹر ملیحہ علی نے جارجیا کے شہر تبلیسی میں جاری آئی ایم ایم اے ایف (IMMAF) ورلڈ چیمپئن شپ میں دو بار کی یورپی چیمپئن روس کی ویرونیکا ڈروزدووا کو شکست دے کر ایک تاریخی اور سنسنی خیز کامیابی حاصل کی ہے۔ گلگت بلتستان کے خوبصورت علاقے ہنزہ سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ ملیحہ علی نے فیدر ویٹ (65.8 کلوگرام) کیٹیگری کے اس اہم مقابلے میں اسپلٹ فیصلے کے ذریعے فتح اپنے نام کر کے ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔
روسی ٹیم اس عالمی چیمپئن شپ میں 60 سے زائد ایتھلیٹس حکومتی سرپرستی اور دنیا کے بہترین فنڈڈ ایم ایم اے پروگرام کے ساتھ شریک ہے۔ ان کے مقابلے میں ملیحہ علی نے جو ووشو چیمپئن اور نیشنل کک باکسنگ گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں اپنے تجربے کا شاندار مظاہرہ کیا۔
مقابلے کے پہلے راؤنڈ میں ملیحہ نے حریف کو کیج کی طرف دھکیلا اور بہترین پنچز لگائے۔ دوسرے راؤنڈ میں انہوں نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے ہوئے روسی فائٹر کو ٹیک ڈاؤن کیا اور فل ماؤنٹ پوزیشن حاصل کر کے اوپر سے کئی جاندار ہٹس لگائیں۔ اگرچہ آخری راؤنڈ میں ملیحہ تھکن کا شکار دکھائی دیں اور روسی کھلاڑی نے واپسی کی کوشش کی لیکن ابتدائی دو راؤنڈز میں حاصل کی گئی برتری کی بدولت ججز نے فتح کا فیصلہ پاکستانی فائٹر کے حق میں دیا۔ جیت کے بعد ملیحہ علی نے پاکستانی پرچم کندھوں پر لپیٹ کر سجدہ شکر ادا کیا۔
پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اس ایونٹ میں شرکت کرنے والی سب سے کم فنڈز اور وسائل رکھنے والی فیڈریشن ہے۔ پاکستان کی اس چیمپئن شپ میں شرکت مکمل طور پر نجی اسپانسرشپ کے ذریعے ممکن ہوئی ہے اور حکومت کی طرف سے کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود، فیڈریشن نے کھلاڑیوں کے لیے 6 ہفتوں کا تربیتی کیمپ لگایا اور انگولا میں ہونے والے ورلڈ کپ کے بعد ملیحہ کی گراؤنڈ فائٹ کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایک انٹرنیشنل جیو جِتسو (Jiu-Jitsu) کوچ کی خدمات حاصل کیں جس کا بہترین نتیجہ سامنے آیا۔
ملیحہ علی کی ایم ایم اے میں فتح کے بعد اب ان کا اگلا مقابلہ کوارٹر فائنل میں میکسیکو کی آندریہ گابریلا گزمین سالازار سے ہوگا۔ دوسری جانب، ملیحہ کی جڑواں بہن منیشہ علی بھی (جو رواں سال ورلڈ کپ میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں) پولینڈ کی مارٹینا کاروک کے خلاف میدان میں اتریں گی۔ دونوں بہنوں کا ہدف پاکستان کے لیے ورلڈ ٹائٹل جیتنا ہے۔






