جنوبی ایشیا اور قفقاز کے خطے کی جیو پولیٹکس، بین الاقوامی سفارت کاری اور تجارتی کوریڈورز کے حوالے سے ایک انتہائی غیر معمولی اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے آرمینیا کے ساتھ اپنے باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد اب وہاں پہلی بار سفیر کی سطح پر باقاعدہ تقرری مکمل کر دی ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز سفارت کار شفقت علی خان نے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں واقع صدارتی محل میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران آرمینیائی صدر واہگن خاچاتوریان کو اپنی باقاعدہ اسنادِ سفارت پیش کر دی ہیں۔
یہ تاریخی قدم ظاہر کرتا ہے کہ پاک آرمینیا سفارتی تعلقات اب محض مینوئل دفتری خط و کتابت سے نکل کر ایک باقاعدہ اور فعال سفارتی فریم ورک میں داخل ہو چکے ہیں۔ ماضی کی جیو پولیٹیکل کشیدگیوں اور روایتی کسٹمز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، دونوں ممالک نے پچھلے سال باقاعدہ طور پر اپنے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب اس نئے سائنسی اور سفارتی نیٹ ورک کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون، افرادی قوت کی منتقلی اور ثقافتی روابط کے نئے سافٹ ویئر کوریڈورز فعال ہونے جا رہے ہیں۔
سفیر شفقت علی خان کی اضافی ذمہ داریاں اور غیر مقیم سفارت کاری کا فریم ورک
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ریگولیٹری مینوئل کے مطابق، سفیر شفقت علی خان اس وقت متحدہ عرب امارات (UAE) میں پاکستان کے مستقل سفیر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ ابوظہبی میں اپنی موجودہ تزویراتی سفارتی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے بیک وقت آرمینیا کے لیے پاکستان کے غیر مقیم سفیر کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
اس غیر مقیم سفارتی ماڈل کے بنیادی تنظیمی پیرامیٹرز درج ذیل ہیں:
متحدہ عرب امارات سے مانیٹرنگ: سفیر شفقت علی خان ابوظہبی کے کلاؤڈ اور سفارتی نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے آرمینیا کے ساتھ ہونے والے تمام تجارتی اور سیاسی امور کو مانیٹر کریں گے۔
وفود کا تبادلہ: نئے روڈ میپ کے تحت دونوں ممالک کے مابین مینوئل ورکنگ گروپس کے بجائے ڈیجیٹل اور آن لائن میٹنگز کا سوفٹ وئیر کوریڈور بنایا جائے گا تاکہ سفارتی فیصلوں میں تاخیر کا انڈیکس کم سے کم ہو۔
باہمی کریڈٹ ریٹنگ: اس تزویراتی تقرری کی بدولت بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک کے سافٹ امیج کو مستقل فروغ ملے گا۔
قفقاز کے خطے میں معاشی تعاون اور تجارتی کوریڈورز کی اسکیننگ
صدر واہگن خاچاتوریان نے اسنادِ سفارت وصول کرنے کے بعد پاکستانی سفیر کے ساتھ ہونے والے خصوصی سیشن میں معاشی اشاریوں کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ آرمینیا اس وقت اپنی آئی ٹی انڈسٹری، تعمیراتی شعبے اور لاجسٹک سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ پاکستانی ہنرمندوں اور نجی کارپوریٹ مینیجرز کے لیے ایک نیا کسٹمر مارکیٹ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس نئے سفارتی کوریڈور کے تحت درج ذیل تین اسمارٹ فیچرز پر کام کیا جائے گا:
آئی ٹی اور سافٹ ویئر ایکسچینج: پاکستان کے آئی ٹی ایکسپورٹرز اور سوفٹ وئیر ہاؤسز آرمینیائی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبوں میں مشترکہ فنڈنگ مینوفیکچر کر سکتے ہیں۔
ٹورازم اور امیگریشن کاؤنٹرز: دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا مینوئل کو آن لائن اور آسان بنانے کے لیے نادرا کے پورٹل کی طرح کا ایک ڈیجیٹل ویزا فریم ورک تیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
افرادی قوت کا کوٹہ: آرمینیا کے صنعتی اور تعمیراتی سیکٹرز میں پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کی کھپت کو بڑھانے کے لیے ریوینیو کسٹمز کے قواعد وضع کیے جائیں گے۔
پاکستانی وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسلام آباد اس نئے سفارتی بلاک کو فعال بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ قفقاز کے خطے میں پاکستان کے معاشی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔






