پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی و تجارتی دارالحکومت کراچی کو ڈیجیٹل دنیا کا ایک جدید ترین گڑھ بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایک تاریخی سائنسی پروجیکٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ملک کے پہلے جدید ترین اور اعلیٰ ترین کارکردگی کے حامل کراچی آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس میگا پروجیکٹ کو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT)، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) اور بین الاقوامی ٹیک مینوفیکچررز کے باہمی اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹر پاکستان کے ویب تھری (Web3)، ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے انفراسٹرکچر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا اور اس کے ذریعے ملکی آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
ڈیٹا سینٹر کی تکنیکی مینوفیکچرنگ اور سائنسی خصوصیات
کراچی کے سٹریٹجک زون میں قائم ہونے والا یہ ڈیٹا سینٹر پاکستان کا پہلا ایسا مرکز ہوگا جو خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (HPC) کے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کے بنیادی تکنیکی فیچرز درج ذیل ہیں:
ٹیئر فور انفراسٹرکچر: یہ ڈیٹا سینٹر بین الاقوامی معیار کے مطابق 99.99 فیصد بلا تعطل سروس فراہم کرے گا جس میں سیکیورٹی اور پاور سپلائی کے فول پروف انتظامات ہوں گے۔
جدید ترین گرافکس پروسیسنگ یونٹس : سینٹر کو دنیا کے تیز ترین اے آئی چپس اور پروسیسرز سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی سائنسدان اور مینیجرز پیچیدہ الگورتھمز اور بڑے ڈیٹا بیس کی اسکیننگ حقیقی وقت میں کر سکیں۔
گرین انرجی نیٹ ورک: توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اس ڈیٹا سینٹر کو متبادل توانائی اور شمسی توانائی کے گرین گریڈ سے لنک کیا جا رہا ہے تاکہ یہ ماحول دوست مینوفیکچرنگ کا بہترین نمونہ بن سکے۔
ملکی معیشت، فب ٹیک اور ٹیک اسٹارٹ اپس پر دور رس اثرات
کراچی آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا سینٹر کا قیام پاکستان کی ٹیک اسپورٹس اور فری لانسنگ انڈسٹری کے لیے ایک انقلابی موڑ ثابت ہوگا۔ اس وقت پاکستان کے زیادہ تر بڑے ادارے، بینک اور ای کامرس کمپنیاں اپنے ڈیٹا کو اسٹور اور پراسیس کرنے کے لیے بیرونِ ملک (جیسے ایمیزون AWS یا گوگل کلاؤڈ) کے سرورز استعمال کرتی ہیں، جس سے کروڑوں ڈالرز کا زرمبادلہ باہر چلا جاتا ہے۔
اس مقامی ڈیٹا سینٹر کے فعال ہونے سے پاکستان کو درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے:
ڈیٹا خودمختاری : ملکی سیکیورٹی اور مالیاتی اداروں کا حساس ڈیٹا پاکستان کی حدود کے اندر ہی مکمل طور پر محفوظ رہے گا اور بیرونی سائبر حملوں کا خطرہ کم ہو جائے گا۔
اسٹارٹ اپس کے لیے سستی ہوسٹنگ: مقامی فب ٹیک اور اے آئی اسٹارٹ اپس کو انتہائی سستے ٹیرف پر کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اسٹوریج کی سہولیات ملیں گی، جس سے ان کی آپریشنل لاگت گھٹ جائے گی۔
روزگار کی فراہمی: یہ پراجیکٹ ڈیٹا سینٹر مینیجرز، کلاؤڈ انجینئرز اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ہائی اینڈ پروفیشنل نوکریاں پیدا کرے گا۔
گوگل پاکستان اور ایچ ای سی (HEC) کے ساتھ تعلیمی روابط
وفاقی کابینہ کی گائیڈ لائنز کے مطابق اس ڈیٹا سینٹر کی صلاحیتوں کو تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے منظور شدہ بلاک چین اور اے آئی کورسز کے طلبہ کو اس ڈیٹا سینٹر کے سپر کمپیوٹرز تک آن لائن رسائی دی جائے گی تاکہ وہ اپنی سائنسی ریسرچ اور کوڈنگ کو عملی شکل دے سکیں۔
حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں قائم ہونے والے گوگل پاکستان کے لوکل آفس اور وزارتِ آئی ٹی کے مابین طے پانے والے نئے ڈیجیٹل معاہدوں کے تحت گوگل کے ماہرین بھی کراچی کے اس مرکز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق چلانے کے لیے مقامی انجینئرز کو کسٹمز ٹریننگ فراہم کریں گے۔ یہ سارا نیٹ ورک ڈیجیٹل پاکستان وژن کا حصہ ہے جس کی مانیٹرنگ وزیراعظم شہباز شریف خود کر رہے ہیں۔






