پاکستان سے بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں، تارکینِ وطن اور سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے لیے وفاقی حکومت کے سب سے بڑے امیگریشن مانیٹرنگ ادارے، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک ہنگامی پریس نوٹ جاری کیا ہے۔ ایف آئی اے کے امیگریشن کوریڈور نے باقاعدہ طور پر ایک جامع ایف آئی اے سفری ایڈوائزری کا نفاذ کر دیا ہے جس کے تحت اب ہوائی اڈوں پر سفری دستاویزات کی لائیو اسکیننگ اور بائیومیٹرک کلیئرنس کے قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ ریگولیٹری فریم ورک کا بنیادی مقصد امیگریشن ٹرمینلز پر ہونے والی مینوئل تاخیر پاسپورٹ فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ ایف آئی اے کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات خاص طور پر ان کسٹمرز (مسافروں) کے لیے جاری کی گئی ہیں جو دوہری شہریت کے حامل ہیں یا طویل عرصے سے خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ میں مقیم ہیں، تاکہ انہیں ایئرپورٹ چھوڑنے سے قبل کسی بھی قسم کی فنی خرابی یا قانونی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے گ۔
دوہری شہریت کے حامل مسافروں کے لیے نائیکوپ (NICOP) اور غیر ملکی پاسپورٹ کا لازمی مینوئل
ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل کے مطابق ایسے تمام پاکستانی جن کے پاس کسی دوسرے ملک کی بھی شہریت موجود ہے انہیں سفر کے دوران اپنے اصل دستاویزات کا کلاؤڈ ریکارڈ اور ہارڈ کاپیز ساتھ رکھنا ہوں گی ۔
اس اسمارٹ سفری فریم ورک کے تحت درج ذیل تین بنیادی سائنسی ضوابط نافذ کیے گئے ہیں:
پاسپورٹ اور نائیکوپ کا انضمام: اگر کوئی مسافر غیر ملکی پاسپورٹ پر پاکستان آیا ہے تو واپسی کے وقت اس کے پاس نادرا کا درست اوورسیز شناختی کارڈ (NICOP) یا پاکستان کا درست پاسپورٹ ہونا لازمی ہے۔ اگر یہ دستاویزات زائد المیعاد (Expired) پائے گئے تو امیگریشن سوفٹ ویئر بائیومیٹرک اسکیننگ کو بلاک کر دے گا۔
ویزا اسٹیٹس کی لائیو ویریفیکیشن: خلیجی ممالک (جیسے یو اے ای یا سعودی عرب) کے اقامہ ہولڈرز اور ورک پرمٹ رکھنے والے عازمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آن لائن پورٹل پر اپنے ویزا کی میعاد کی لائیو اسکیننگ پہلے سے مکمل کر کے آئیں۔
سفری پابندیوں کی چیک لسٹ: مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روانگی سے قبل ایف آئی اے کے شکایت سیل یا آن لائن پورٹل کے ذریعے یہ تصدیق کر لیں کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) یا بلیک لسٹ میں شامل تو نہیں ہے۔
بچوں کے سفری کسٹمز اور نادرا فیملی سرٹیفکیٹ کی اسکیننگ
ایف آئی اے کے امیگریشن مینیجرز نے بچوں کی بیرونِ ملک منتقلی کے قوانین کو بھی بین الاقوامی کونسل رولز کے مطابق انتہائی سخت کر دیا ہے گ۔ اب اگر کوئی خاتون یا مرد اپنے بچوں کے ہمراہ اکیلے سفر کر رہے ہیں تو ان کے پاس نادرا کا کمپیوٹرائزڈ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) یا دوسرے والدین کی طرف سے تصدیق شدہ تحریری رضامندی کا مینوئل ہونا فرض ہے ۔
اس سخت سیکیورٹی مینوفیکچرنگ کا بنیادی مقصد بچوں کی غیر قانونی مینوئل اسمگلنگ اور طلاق کے بعد والدین کے مابین ہونے والے عدالتی تنازعات کے دوران بچوں کی زبردستی منتقلی کو روکنا ہے ۔ اس کے علاوہ تمام ہوائی اڈوں پر نادرا کے بائیومیٹرک اسکیننگ پورٹل کے ساتھ مربوط ایک نیا امیگریشن سوفٹ ویئر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جو جعلی دستاویزات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے گا ۔
ڈیجیٹل پیمنٹ فریم ورک اور کسٹمرز کے لیے ہیلپ لائن سپورٹ
ایف آئی اے نے ایئرپورٹ کے امیگریشن کوریڈورز کے اندر ایجنٹ مافیا اور مینوئل سفارش کے کسٹمز کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے تمام فائنینشل اور امیگریشن کاؤنٹرز کو کیش لیس کر دیا ہے۔ اب کسی بھی قسم کی اوور اسٹینگ فیس یا جرمانے کی ادائیگی صرف پورٹل پر موجود راست کیو آر کوڈ (RAAST QR Code) یا بینکنگ چینلز کے ذریعے ہی قابلِ قبول ہوگی گ۔ مسافروں کی فوری تکنیکی معاونت اور لائیو ہیلپ ڈیسک سپورٹ کے لیے ایف آئی اے نے اپنی آفیشل ہیلپ لائن 111-342-111 کو چوبیس گھنٹے فعال کر دیا ہے جہاں سے کسی بھی فلائٹ تاخیر یا دستاویزاتی خرابی کی صورت میں درست سائنسی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے ۔






