پاکستان کی میکرو اکانومی، مالیاتی پالیسیوں اور بین الاقوامی فنڈنگ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی معاشی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد رواں ماہ 23 ستمبر 2026 کو پاکستان کا دو ہفتوں پر مشتمل دورہ کرے گا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی اور اصلاحات کا ششماہی جائزہ لینا ہے جس کے تحت آئی ایم ایف مشن دورہ پاکستان کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے۔
ایوا پیٹرووا کی سربراہی میں آنے والا یہ اسٹاف مشن ملک کے دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی میں اہم ترین سفارتی اور مالیاتی ملاقاتیں کرے گا۔ اس دورے کے دوران 7 ارب امریکی ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ماحولیاتی ریزلیئنس پروگرام (RSF) کے تیسرے جائزے پر تکنیکی بات چیت کی جائے گی۔ اگر پاکستان اس جائزے کو کامیابی سے مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نومبر کے آخر یا دسمبر 2026 کے اوائل تک فنڈز کی اگلی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
ایف بی آر (FBR) کے ٹیکس اہداف اور معاشی اصلاحات کا آڈٹ
آئی ایم ایف کے مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ آفیشل روڈ میپ کے مطابق یہ دورہ پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ وفد اپنے دورے کا آغاز اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے ساتھ تکنیکی مباحثوں سے کرے گا جس کے بعد وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی وزارت کی سیکٹرل ٹیموں کے ساتھ باقاعدہ اعلیٰ سطحی سیشنز منعقد ہوں گے۔
مذاکرات کے دوران درج ذیل تین بڑے مالیاتی پیرامیٹرز کا کڑی مانیٹرنگ کے ساتھ جائزہ لیا جائے گا:
پہلا ششماہی ریونیو ہدف: مشن خاص طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اس صلاحیت اور تیاری کا جائزہ لے گا جس کے تحت تاریخ میں پہلی بار ششماہی ٹیکس وصولی کا اسٹرکچرل ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ماضی میں ایف بی آر کو سالانہ ریونیو میں مسلسل شارٹ فال کا سامنا رہا ہے۔
صوبائی سرپلس فنڈز کا آڈٹ: یہ موجودہ مالیاتی سال کا پہلا جائزہ ہوگا جس میں صوبائی حکومتوں نے قومی سیکیورٹی اور آبی وسائل کے لیے 10 کھرب روپے سے زائد کے نیشنل فنانس کمیشن (NFC)کے شیئرز مرکز کے حوالے کیے ہیں اس کے ساتھ ساتھ 18 کھرب روپے کا کیش سرپلس بھی فنڈ کے دباؤ کے تحت برقرار رکھنا ہے۔
کمیوڈٹی آپریشنز سے دستبرداری: آئی ایم ایف نے حکومت کو گندم اور چینی جیسی اہم اجناس کی مارکیٹ مداخلت سے دور رہنے کا پابند کیا تھا تاہم حالیہ مہینوں میں ہونے والی کچھ خلاف ورزیوں پر پالیسی میٹرکس کا سائنسی آڈٹ کیا جائے گا۔
گورننس اور اینٹی کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ کا نفاذ
وفاقی حکومت کی جانب سے معاشی گورننس اور شفافیت کے انڈیکس کو بہتر بنانے کے دعوؤں کے باوجود آئی ایم ایف کے حالیہ ریکارڈز بتاتے ہیں کہ 3 درجن سے زائد معاشی اہداف میں سے صرف چند ہی کو کامیابی سے پورا کیا جا سکا ہے۔ اس کیو آر کوڈ اور ڈیجیٹل دور میں فنڈ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں براہِ راست ٹھیکے دینے کے روایتی مینوئل کسٹمز کو ختم کر کے اوپن مسابقتی بولی کا سوفٹ وئیر بیسڈ شفاف نظام اپنائے۔
اس کے علاوہ اس بار مشن پاکستان کے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کے نفاذ کے منصوبے کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔ اس کے فائنڈنگز کو بعد میں آرٹیکل IV کنسلٹیشنز کے پورٹل پر لائیو کر دیا جائے گا جو بیرونی دنیا کے سامنے پاکستان کی فنانشل کریڈیبلٹی کی عکاسی کرے گا۔
بین الاقوامی خطرات اور آئندہ کا سفارتی و معاشی روڈ میپ
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ اور جیو پولیٹیکل بحران کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل اور بنیادی اجناس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس نے پاکستان کے معاشی آؤٹ لک کے لیے بیرونی خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت کو امید ہے کہ پاکستان کی حالیہ ڈیجیٹل گورننس اور کیش لیس ریوینیو مینجمنٹ کے اقدامات مشن کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہیں گے۔






