متحدہ عرب امارات (UAE) نے پاکستانی شہریوں کے لیے وزٹ اور ٹورسٹ ویزوں کی منظوری اور اجراء کا عمل باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اگست 2026 کے آغاز میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے اور ٹریول انڈسٹری کے حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال، سخت ترین اسکروٹنی اور ویزا تاخیر کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اب عام پاسپورٹ ہولڈرز یو اے ای کے مستند اور رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے ان ہزاروں پاکستانیوں کو بڑی راحت ملی ہے جو خلیجی ممالک میں اپنے خاندانوں سے ملنے یا سیاحت کی غرض سے جانے کا انتظار کر رہے تھے۔
یو اے ای وزٹ ویزا: فیملی اور ٹورسٹ ویزا اپروول میں تیزی
ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (TAAP) کے سابق چیئرمین اور دفاعی و سفارتی ذرائع کے مطابق سب سے واضح اور تیز ترین تبدیلی فیملی ویزا کی درخواستوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ جو خاندان ایک ساتھ سفر کر رہے ہیں یا یو اے ای میں مقیم اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنے جا رہے ہیں ان کے ویزے محض چند دنوں میں منظور ہو رہے ہیں۔
اس بحالی کے بعد سفری سرگرمیوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے:
مسافروں کی تعداد میں اضافہ: جولائی 2026 کے وسط تک پاکستان سے دبئی جانے والے روزانہ مسافروں کی تعداد جو کہ محض 170 تک گر چکی تھی اب بڑھ کر 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔
نارمل پروسیسنگ ٹائم: مکمل اور درست دستاویزات کے حامل افراد کے لیے اب معیاری یو اے ای وزٹ ویزا کی پروسیسنگ کا وقت 3 سے 7 کاروباری دن رہ گیا ہے۔
تاخیر اور سخت اسکروٹنی کی بنیادی وجوہات
متحدہ عرب امارات کے سفارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ ماضی میں کوئی آفیشل ویزا پابندی عائد نہیں کی گئی بلکہ سیکورٹی وجوہات اور پس منظر کی سخت پڑتال کی وجہ سے تعطل آیا تھا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھی ماضی میں پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ کچھ ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے اماراتی امیگریشن کو سخت قوانین نافذ کرنا پڑے:
جعلی دستاویزات: کچھ درخواست گزاروں کی جانب سے مبہم بینک اسٹیٹمنٹس یا غیر تصدیق شدہ اسناد جمع کرائی گئیں۔
قوانین کی خلاف ورزی: یو اے ای کے اندر بعض غیر قانونی سیاسی سرگرمیوں یا سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی وجہ سے بھی بیک گراؤنڈ چیک کو سخت کیا گیا تھا۔
اب نئے طریقہ کار کے تحت اماراتی سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ جو بھی درخواست گزار شفاف ریکارڈ اور مکمل کاغذی کارروائی کے ساتھ اپلائی کرے گا اسے ویزا حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔
5 سالہ ملٹی پل انٹری ویزا اور نئی سہولیات
موجودہ ویزا اصلاحات کے تحت یو اے ای نے پاکستانیوں کے لیے 5 سالہ ملٹی پل انٹری ٹورسٹ ویزا (5-Year Multiple Entry Visa) بھی متعارف کروا رکھا ہے۔ اس ویزے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے لیے کسی مقامی اماراتی کفیل یا اسپا نسر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مسافر ایک ہی ویزے پر پانچ سال کے دوران متعدد بار یو اے ای کا سفر کر سکتے ہیں اور ہر دورے کے دوران وہ 90 دن تک قیام کر سکتے ہیں جسے مزید 90 دن کے لیے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے درخواست گزار کا بینک بیلنس اور سفری ارادہ بالکل واضح ہونا ضروری ہے۔
ویزا اپلائی کرنے کے لیے لازمی شرائط اور ہدایات
اگر آپ موجودہ بحالی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو اماراتی حکام کی جانب سے درج ذیل گائیڈ لائنز پر عمل کرنا ضروری ہے:
پاسپورٹ کی میعاد: آپ کا پاکستانی پاسپورٹ کم از کم 6 ماہ کے لیے کارآمد ہونا چاہیے۔
مالی ضمانت: متحدہ عرب امارات پہنچنے پر مسافر کے پاس کم از کم 3,000 درہم کی رقم یا مساوی فنڈز، واپسی کا ہوائی ٹکٹ، اور ہوٹل کی بکنگ (یا میزبان کا مکمل پتہ) ہونا لازمی ہے۔
رجسٹرڈ ایجنٹس کا انتخاب: کسی بھی قسم کے فراڈ سے بچنے کے لیے اپنی فائل صرف یو اے ای کے منظور شدہ اور لائسنس یافتہ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے ہی پراسیس کروائیں۔






