پاکستان کی وفاقی حکومت، آئی ٹی انڈسٹری اور جیو پولیٹیکل ڈیجیٹل سیکیورٹی کے نیٹ ورک کے حوالے سے ایک انتہائی تاریخی اور تزویراتی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ پاکستان اور اسلامی برادر ملک سعودی عرب نے اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، حساس نیٹ ورکس اور قومی سلامتی کو بڑھتے ہوئے عالمی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک جامع پاک سعودی سائبر سکیورٹی معاہد پر دستخط کر دیے ہیں۔
ریاض میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ٹیک کانفرنس LEAP 2026 کے سائیڈ لائنز پر اس تاریخی مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر باقاعدہ دستخط کیے گئے۔ اس اہم ترین معاہدے پر پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شذا فاطمہ خواجہ اور سعودی عرب کی نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی (NCA) کے گورنر انجنیئر ماجد بن محمد المزیّد نے دونوں ممالک کے وفود کی موجودگی میں دستخط کیے اس نئے سائنسی فریم ورک کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مینوئل سیکیورٹی کسٹمز کو ختم کر کے سوفٹ وئیر بیسڈ کلاؤڈ سیکیورٹی کو فروغ دینا ہے۔
نفیس سائبر خطرات اور معلومات کا تبادلہ
وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، یہ معاہدہ کسی ایک مخصوص خطرے تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ دونوں ممالک کے مابین ابھرتے ہوئے اور پیچیدہ ڈیجیٹل حملوں کے خلاف ایک وسیع حکمتِ عملی مینوفیکچر کرتا ہے چونکہ دونوں ممالک تیزی سے اپنی سرکاری پبلک سروسز، مالیاتی نیٹ ورکس اور اہم انفراسٹرکچر کو آن لائن کلاؤڈ سسٹمز پر منتقل کر رہے ہیں اس لیے سائبر خطرات کا انڈیکس بھی ریکارڈ حد تک بڑھ چکا ہے۔
اس سٹرکچرل مینوئل کے تحت درج ذیل تین بنیادی سائنسی پیرامیٹرز پر عملدرآمد کیا جائے گا:
باہمی مہارت کا تبادلہ : دونوں ممالک کے سائبر مینیجرز جدید ہیکنگ ٹیکنالوجیز اور ان کے تدارک کے لیے اپنے تجربات اور بہترین طریقوں کا تبادلہ کریں گے۔
ریئل ٹائم انفارمیشن شیئرنگ: کسی بھی بڑے سائبر حملے یا مالویئر (Malware) کے پھیلاؤ کی صورت میں دونوں ممالک کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں (CERTs) فوری طور پر لائیو ڈیٹا شیئر کریں گی تاکہ سیکیورٹی لوپ ہولز کو وقت سے پہلے بند کیا جا سکے۔
نوجوان افرادی قوت کی تربیت: پاکستانی آئی ٹی وزیر شذا فاطمہ کے مطابق، اس معاہدے کے تحت پاکستانی نوجوانوں کو سائبر ریگولیشنز اور ایڈوانسڈ سیکیورٹی سوفٹ ویئرز کی مینوفیکچرنگ سکھانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔
ویژن 2030 اور پاکستان کی ٹیک ایکسپورٹس کی عالمی اسکیننگ
یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے وسیع تر معاشی اور ٹیکنالوجیکل اشتراک کا تسلسل ہے جہاں ایک طرف دونوں ممالک اگلے دو سالوں میں پاکستان کی زرعی و فوڈ ایکسپورٹس کو 3 ارب ڈالر تک پہنچانے کے روڈ میپ پر کام کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ڈیجیٹل منتقلی کو اسٹریٹجک تھرسٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے معاشی تنوع کے مینوئل کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک بہت بڑی کسٹمر مارکیٹ بن چکا ہے مالیاتی سال 2026 میں پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، اور سعودی عرب کے ساتھ یہ ڈیجیٹل شراکت داری ملکی ریوینیو کسٹمز کو مزید مستحکم کرے گی۔
پاکستانی اسٹارٹ اپس کو سعودی مارکیٹ میں فنڈنگ اور پارٹنرشپ کا حصول
وزارتِ آئی ٹی نے تصدیق کی ہے کہ LEAP 2026 ایونٹ کے دوران اس معاہدے کے ساتھ ساتھ پاکستانی اسٹارٹ اپس نے سعودی ٹیک ایکو سسٹم کے ساتھ ٹھوس کاروباری فائنینشل معاہدے بھی حاصل کیے ہیں:
آفس فلو اے آئی : پاکستان کے اس بزنس آٹومیشن پلیٹ فارم نے سعودی عرب کے بڑے ٹیک ایکو سسٹم دھران ٹیکنو ویل (DTV) کے ساتھ انکیوبیشن پارٹنرشپ پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سعودی عرب کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ‘MIS Arabia’ (جو آرامکو کو خدمات فراہم کرتی ہے) کے ساتھ بھی ایک بڑا مینوفیکچرنگ سنٹر معاہدہ لاک کیا ہے۔
ایڈورسٹی : آئی ٹی منسٹری کے تحت کام کرنے والے ادارے ‘Ignite’ کے تعاون سے چلنے والے اس پاکستانی تعلیمی اسٹارٹ اپ نے اپنی بین الاقوامی توسیع اور اے آئی تعلیمی سافٹ ویئر کے لیے راپیڈیو گروپ سے 400,000 امریکی ڈالر کی خطیر انویسٹمنٹ فنڈنگ حاصل کی ہے۔
یہ اہم ترین پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اب صرف روایتی دفاعی مینوئل تک محدود نہیں ہے بلکہ ڈیجیٹل اور کلاؤڈ کسٹمز کے اس دور میں دونوں ممالک اپنی خودمختاری اور معاشی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ ترین سائبر فرنٹ مینوفیکچر کر چکے ہیں۔






