پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری، کیپیٹل انفراسٹرکچر کی تیاریوں اور جیو پولیٹیکل سیکیورٹی کے نیٹ ورک کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بہت بڑا مالیاتی اور انتظامی اقدام سامنے آیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے ستمبر 2027 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس (SCO Summit 2027) کے لیے غیر ملکی سربراہانِ مملکت کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی غرض سے 6.6 ارب روپے (23.8 ملین امریکی ڈالر) کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
اس خطیر فنڈنگ کا بنیادی مقصد ایس سی او سربراہی اجلاس سیکیورٹی بجٹ کے تحت اعلیٰ ترین سائنسی معیار کی 30 جدید ترین بلٹ پروف اور آرمرڈ گاڑیاں خریدنا ہے، جو پاکستان آنے والے عالمی رہنماؤں، بشمول چین، روس، انڈیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے صدور اور وزرائے اعظم کی نقل و حرکت کے لیے کلاؤڈ مانیٹرنگ کے ساتھ استعمال کی جائیں گی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اجلاس اور بجٹ کٹس کا مینوئل
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کا یہ اہم ترین اجلاس وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اسلام آباد کے فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء، مشیران اور ٹیکنیکل مینیجرز نے کسٹمز اور لاجسٹک قوانین کے تحت بجٹ کا سائنسی جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق، کابینہ ڈویژن نے ابتدائی طور پر ان گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور درآمد کے لیے 12.6 ارب روپے کا مینوئل فنڈ مانگا تھا۔ تاہم ملکی معاشی صورتحال، قرضوں کے دباؤ اور مالیاتی ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے وزیرِ خزانہ اور ان کی ٹیم نے سوفٹ وئیر آڈٹ کے بعد مجوزہ بجٹ میں تقریباً 48 فیصد کی بڑی کٹوتی (Cut) کرتے ہوئے اسے صرف 6.6 ارب روپے تک محدود کر دیا۔ یہ سائنسی فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت سیکیورٹی اشاریوں پر سمجھوتہ کیے بغیر عوامی ٹیکسوں کے ریوینیو کسٹمز کا کفایت شعاری کے ساتھ استعمال چاہتی ہے۔
#Pakistan's top economic decision-making body approved a grant of Rs 6.6 billion – USD $23.8 million, to purchase 30 bullet-proof vehicles for the Heads of State who will be in #Islamabad for the Shanghai Cooperation of Organization summit in 2027.
— Shafek Koreshe (@shafeKoreshe) September 7, 2026
The Economic Coordination… pic.twitter.com/OUtK4s94v4
وی آئی پی موومنٹ کے لیے جدید آرمرڈ ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی پروٹوکول
پاکستان نے اس سے قبل اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں ایس سی او کے کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ اجلاس کی کامیاب ترین میزبانی کی تھی جس کے دوران سخت ترین سیکیورٹی انتظامات نافذ کیے گئے تھے۔ لیکن ستمبر 2027 کا یہ ایونٹ کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کا ہوگا جس میں براہِ راست ممالک کے صدور شریک ہوں گے اس لیے سیکیورٹی مینوئل کو عالمی اسٹینڈرڈز کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
خریدی جانے والی 30 بلٹ پروف گاڑیوں کے تکنیکی اور حفاظتی خدوخال درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
اعلیٰ ترین آرمر گریڈ پروٹیکشن: یہ گاڑیاں نفیس ترین دھماکہ خیز مواد، بارودی سرنگوں اور خودکار رائفلز کے حملوں کو روکنے کی کسٹمز مینوفیکچرنگ صلاحیت رکھتی ہوں گی۔
انٹیگریٹڈ سوفٹ وئیر ٹریکنگ: تمام گاڑیوں کو سیٹلائٹ، کیو آر کوڈ سسٹمز اور کلاؤڈ کنٹرول رومز کے ساتھ لائیو جوڑا جائے گا تاکہ لائیو لوکیشن اور اسپیڈ پیرامیٹرز کو مانیٹر کیا جا سکے۔
سرحدی خطرات کا سدِباب: بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالیہ عسکری اور مینوئل خطرات کے پیشِ نظر، وفاقی دارالحکومت کے امیگریشن کوریڈور اور ریڈ زون کو مکمل پیپر لیس اور ڈیجیٹل اسکیننگ ہب میں تبدیل کیا جا رہا ہے。
اسلام آباد کی ڈیجیٹل اپ گریڈیشن اور پبلک ٹرانسپورٹ روڈ میپ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پہلے ہی یہ تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان 2027 کے اس تاریخی سفارتی ایونٹ کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے مینیجرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اسلام آباد کی شاہراہوں کی بیوٹی فیکیشن ، جیو ٹیگنگ لینڈ اسکیپنگ اور انفراسٹرکچر کے پراجیکٹس کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
اس میگا ایونٹ کے روڈ میپ کے تحت جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) کے لیے ایک جدید ریل کار سریک اور الیکٹرک وہیکلز (EVs) کا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی انڈیکس کو بہتر بنا کر غیر ملکی وفود کا شاندار استقبال کیا جا سکے۔






