پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن کے ضامن ادارے، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) نے عوامی سہولت، وقت کی بچت اور رجسٹریشن سینٹرز پر بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک تاریخی ڈیجیٹل سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ نادرا نے اپنے آفیشل پلیٹ فارم پر نادرا آن لائن اپائنٹمنٹ سروس متعارف کرائی ہے جس کے تحت اب شہری شناختی کارڈ (CNIC)، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) یا دیگر دستاویزات بنوانے کے لیے گھر بیٹھے اپنی مرضی کا دن اور وقت منتخب کر سکتے ہیں۔
آج، 8 ستمبر 2026 کو جاری کردہ وفاقی نوٹیفکیشن کے مطابق، اس سمارٹ سروس کو نادرا کی آفیشل موبائل ایپلی کیشن پاک آئی ڈی (Pak ID App) کے اپ ڈیٹڈ ورژن کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی معاشی اور لاجسٹک مقصد نادرا دفاتر کے باہر لگنے والی طویل مینوئل لائنوں اور کسٹمرز کے گھنٹوں انتظار کرنے کے روایتی کسٹمز کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔
فیز 1 کا آغاز اور ملک کے 43 بڑے رجسٹریشن سینٹرز (NRCs) کی اسکیننگ
نادرا کے مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ اسٹرکچرل روڈ میپ کے مطابق اس منصوبے کو ابتدائی طور پر پائلٹ فیز کے تحت ملک کے 43 منتخب بڑے رجسٹریشن مراکز پر لائیو کیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں جن اضلاع اور بڑے شہروں کو کور کیا گیا ہے، ان میں درج ذیل ایریاز شامل ہیں:
بڑے میٹروپولیٹن شہر: اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور حیدرآباد کے ایگزیکٹو اور نارمل سینٹرز۔
دور دراز کے اضلاع: شہریوں کی آسانی کے لیے گلگت، اسکردو، گوادر اور دیامر جیسے پسماندہ اور دور دراز کے کوریڈورز میں بھی اس سروس کا سافٹ ویئر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کو مینوئل دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاک آئی ڈی (Pak ID) ایپ کے ذریعے اپائنٹمنٹ بک کرنے کا مرحلہ وار مینوئل
نادرا نے درخواستوں کی پروسیسنگ کو 100 فیصد پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ بنانے کے لیے ایک انتہائی آسان انٹرفیس مینوفیکچر کیا ہے۔ شہری درج ذیل سائنسی مراحل کے ذریعے اپنا ٹائم سلاٹ بک کر سکتے ہیں:
ایپ اپ ڈیٹ اور لاگ ان: گوگل پلے اسٹور یا ایپل ایپ اسٹور سے Pak ID Mobile App کا تازہ ترین ورژن ڈاؤن لوڈ یا اپ ڈیٹ کریں۔
مرکز اور وقت کا انتخاب: ہوم اسکرین پر موجود بک اپائنٹمنٹ کے آپشن پر جائیں، اپنے صوبے، ضلع اور قریبی فعال نادرا سینٹر کا انتخاب کریں۔ کلاؤڈ کیلنڈر پر دستیاب تاریخ اور لائیو ٹائم سلاٹ لاک کریں۔
تصدیقی آئی ڈی : اپنا پورا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کے بعد سسٹم ایک منفرد کیو آر کوڈ اور اپائنٹمنٹ آئی ڈی آٹو جنریٹ کرے گا۔ مسافر یا شہری کو مقررہ وقت سے محض 15 منٹ قبل سینٹر پہنچنا ہوگا جہاں وہ بغیر کسی مینوئل لائن کے براہِ راست کاؤنٹر پر جا کر اپنی بائیومیٹرک اسکیننگ کا عمل شروع کرا سکے گا۔
ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی اور ایف آئی اے (FIA) آن لائن شکایت پورٹل کی شمولیت
نادرا کے چیئرمین کے مطابق پاک آئی ڈی ایپ کی اس نئی اپ گریڈیشن میں صرف اپائنٹمنٹ بکنگ ہی شامل نہیں ہے بلکہ اسے ایک ملٹی ٹاسکنگ سوفٹ وئیر کوریڈور میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب اس سنگل پلیٹ فارم کے ذریعے کسٹمرز فیملی ریکارڈ کی درستگی، ڈیجیٹل دستخط اپ لوڈ کرنے اور اپنی ڈیجیٹل شناخت کو لائیو دیکھنے کے مجاز ہیں۔
اس کے علاوہ ایجنٹ مافیا اور شناختی کارڈ کے مینوئل فراڈ کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے ایپ کے اندر ایف آئی اے (FIA) آن لائن کمپلینٹ سسٹم بھی مربوط کر دیا گیا ہے۔ نادرا نے شہریوں کو سخت انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ وہ اپنے تیار شدہ شناختی کارڈز جاری ہونے کے تین ماہ کے اندر لازمی وصول کریں ورنہ کونسل رولز کے تحت کلاؤڈ سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے ان غیر دعویٰ شدہ کارڈز کو مینوئل اسکیننگ کے بعد ضائع کر دیا جائے گا۔






