فیفا ورلڈ کپ دنیا کا سب سے بڑا اور مقبول ترین کھیلوں کا میلہ ہے۔ پاکستان اگرچہ اب تک فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا ہے لیکن فیفا ورلڈ کپ 2026ء پاکستان اور دنیا بھر کے پاکستانیوں کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ مانچسٹر میں پیدا ہونے والے 23 سالہ مڈفیلڈر زیدان اقبال نے عراقی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اس باوقار ایونٹ میں قدم رکھا اور وہ عالمی کپ کی تاریخ میں کھیلنے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بن گئے ہیں۔ اس تاریخی لمحے نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں فٹبال کے شائقین کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
زیدان اقبال کون ہیں اور ان کا خاندانی پس منظر کیا ہے؟
زیدان عمار اقبال 27 اپریل 2003ء کو مانچسٹر، انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی پس منظر انتہائی دلچسپ اور کثیر الثقافتی ہے۔ ان کے والد کا تعلق پاکستان کے شہر ساہیوال سے ہے جبکہ ان کی والدہ عراق سے تعلق رکھتی ہیں۔ برطانوی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے پاس عراقی اور پاکستانی جڑیں بھی موجود تھیں جس کی وجہ سے وہ بین الاقوامی سطح پر انگلینڈ، پاکستان یا عراق میں سے کسی بھی ملک کی نمائندگی کرنے کے اہل تھے۔ تاہم انہوں نے بین الاقوامی فٹبال کے لیے اپنی والدہ کے ملک عراق کا انتخاب کیا۔
زیدان اقبال اپنے والد کو اپنی زندگی کی سب سے اہم شخصیت اور اپنے کیریئر کا رہنما مانتے ہیں۔ بی بی سی اسپورٹس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: "میرے والد پاکستانی ہیں اور وہ میری زندگی کے سب سے محترم انسان ہیں جنہوں نے میرے فٹبال کیریئر میں میری سب سے زیادہ مدد کی”۔
مانچسٹر یونائیٹڈ سے فیفا ورلڈ کپ تک کا شاندار سفر
زیدان اقبال نے محض چار سال کی عمر میں مقامی کلب ‘سیل یونائیٹڈ’ سے فٹبال کھیلنا شروع کیا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے صرف نو سال کی عمر میں مشہورِ زمانہ کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کی یوتھ اکیڈمی نے انہیں اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ وہ مانچسٹر یونائیٹڈ کی سینئر ٹیم کی طرف سے یوئیفا چیمپئنز لیگ کھیلنے والے تاریخ کے پہلے برطانوی-جنوبی ایشیائی کھلاڑی بنے۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کے بعد وہ ہالینڈ کے مشہور کلب ایف سی اٹریکٹ (FC Utrecht) کا حصہ بنےnجہاں وہ مڈفیلڈ میں اپنی بہترین تکنیک اور کھیل کی سمجھ بوجھ کے باعث جانے جاتے ہیں۔
زیدان اقبال ورلڈ کپ 2026 کا وہ تاریخی لمحہ جس نے پاکستان کا نام روشن کیا
16 جون 2026ء کو بوسٹن اسٹیڈیم میں عراق اور ناروے کے مابین کھیلے گئے میچ کے 59 ویں منٹ میں جب زیدان اقبال متبادل کھلاڑی کے طور پر پچ پر اترے تو تاریخ رقم ہو گئی۔ اگرچہ اس میچ میں ناروے نے عراق کو 4-1 سے شکست دی لیکن پاکستانی شائقین کے لیے یہ میچ ہمیشہ کے لیے یادگار بن گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ورلڈ کپ کے کسی میچ میں کسی ایسے کھلاڑی نے حصہ لیا جس کی رگوں میں پاکستانی خون دوڑ رہا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود زیدان اقبال کو بھی میچ سے قبل اس ریکارڈ کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر یہ خبر دیکھنے کے بعد فوراً اپنے والد کو بھیجی، اور یہ ان کے پورے خاندان کے لیے ایک انتہائی جذباتی اور فخر کا لمحہ تھا۔
پاکستانی فٹبال کے مستقبل کے لیے ایک نئی امید
پاکستان میں فٹبال کا ٹیلنٹ تو موجود ہے لیکن مناسب انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر سامنے نہیں آپاتے۔ ایسی صورتحال میں زیدان اقبال ورلڈ کپ میں شرکت پاکستان کے نوجوان فٹبالرز کے لیے ایک بہت بڑی تحریک ہے۔ زیدان اقبال اکثر اپنے بوٹس (جوتے) پر عراق اور پاکستان دونوں ممالک کے پرچم سجا کر کھیلتے ہیں جو ان کی اپنی پاکستانی جڑوں سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ اگر صحیح رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستانی ٹیلنٹ دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر بھی اپنی دھاک بٹھا سکتا ہے۔






