جدید دور میں ویپنگ یا الیکٹرانک سگریٹ کے استعمال کو روایتی تمباکو نوشی کا ایک بے ضرر متبادل بنا کر پیش کیا گیا۔ کمپنیوں کی مارکیٹنگ مہمات نے نوجوان نسل اور خصوصاً خواتین کو یہ باور کرایا کہ دھوئیں سے پاک یہ خوشبودار آلہ صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ تاہم طبی سائنس اب اس فریب کا پردہ چاک کر رہی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ریور سائیڈ کی ایک حالیہ اور چونکا دینے والی لیبارٹری تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ویپنگ اور خواتین میں بانجھ پن کا رشتہ انتہائی گہرا اور ہولناک ہے۔
معروف سائنسی جریدے ہیومن ری پروڈکشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ای سگریٹ کے اندر استعمال ہونے والا ایک عام فلیورنگ کیمیکل جسے ونیلن کہا جاتا ہے حمل کے ابتدائی مراحل میں جنین کی نشوونما کو مستقل طور پر روکنے یا اسے ہلاک کرنے کی مہیب صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اوپیڈی مضمون اس سائنسی سچائی کا تفصیلی احاطہ کرے گا کہ کس طرح فلیورڈ ویپنگ خواتین کی زرخیزی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
طبی مصلحتوں اور اخلاقی اصولوں کے باعث براہِ راست حاملہ خواتین پر تجربات کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے پروفیسر پرو ٹالبورٹ کی سربراہی میں محققین نے لیبارٹری کے اندر انسانی ایمبریونک اسٹیم سیلز پر تجربات کیے۔ یہ وہ خلیات ہوتے ہیں جو حمل کے ابتدائی تین ہفتوں کے دوران جنین کے اندر موجود ہوتے ہیں اور ان کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ آگے چل کر انسانی جسم کا کوئی بھی عضو یا خلیہ بن سکیں۔
جب ان خلیات کو انتہائی معمولی مقدار میں ونیلن (جو کہ الیکٹرانک سگریٹس میں بہت زیادہ ارتکاز کے ساتھ پایا جاتا ہے) کے سامنے لایا گیا تو نتائج ہولناک تھے:
مائیکرو مولر ارتکاز : اس مقدار نے خلیات کو براہِ راست مارنا شروع کر دیا جس کا مطلب ہے کہ جنین کی ابتدائی تشکیل ہی رک جاتی ہے۔
نینو مولر ارتکاز: اس سے بھی کم اور باریک مقدار نے خلیات کو ہلاک تو نہیں کیا لیکن ان کی وہ بنیادی صلاحیت چھین لی جس کے ذریعے وہ انسانی جسم کے مختلف اعضاء (دل، دماغ، جگر وغیرہ) میں تبدیل ہو سکتے تھے۔
سائنسی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حمل ٹھہر بھی جائے تو بچہ شدید ترین پیدائشی معذوریوں کا شکار ہو سکتا ہے یا حمل ابتدائی چند ہفتوں میں ہی خود بخود ضائع ہو جاتا ہے۔
سائنسی طریقہ کار: TRPV4 پروٹین اور ونیلن کا گٹھ جوڑ
اس تحقیق کا سب سے بڑا سائنسی بریک تھرو یہ ہے کہ سائنسدانوں نے وہ حیاتیاتی راستہ ڈھونڈ نکالا ہے جس کے ذریعے یہ فلیورڈ کیمیکل جنین پر حملہ آور ہوتا ہے۔ انسانی جنین کے خلیات کی سطح پر ایک مخصوص پروٹین پایا جاتا ہے جسے TRPV4 کہتے ہیں۔
لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران دیکھا گیا کہ ونیلن کیمیکل سیدھا جا کر TRPV4 پروٹین کے ساتھ جڑ جاتا ہے اور خلیے کے اندر زہریلے سگنلز بھیجتا ہے۔ جب محققین نے تجرباتی طور پر TRPV4 پروٹین کی سرگرمی کو بلاک یا معطل کیا تو ونیلن کے مضر اثرات بھی رک گئے۔ یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ ای سگریٹ کے فلیورز انسانی خلیات کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کر کے ان کی اندرونی ساخت کو تباہ کر دیتے ہیں۔
ویپنگ اور خواتین میں بانجھ پن کا رشتہ: اسقاطِ حمل اور تولیدی مسائل
گزشتہ چند سالوں میں وبائی شکل اختیار کرنے والی ویپنگ کے نتیجے میں گائناکالوجسٹس اور تولیدی ماہرین نے یہ نوٹ کیا تھا کہ ویپ کرنے والی خواتین میں بانجھ پن اور بار بار اسقاطِ حمل کی شرح عام خواتین سے کہیں زیادہ تھی۔ تاہم، اس کی وجہ معلوم نہیں ہو پا رہی تھی۔
اس نئی تحقیق نے اس معمے کو حل کر دیا ہے۔ حمل ٹھہرنے میں دشواری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بیضہ بارآور ہوتا ہے تو ونیلن جیسے پوشیدہ کیمیکلز اسے رحم کی دیوار سے جڑنے ہی نہیں دیتے۔ خواتین اکثر یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ماں نہیں بن پا رہیں، جبکہ درحقیقت ان کا سگریٹ کا یہ اسمارٹ متبادل ان کے اندر نئی زندگی کے بیج کو پنپنے سے پہلے ہی جلا رہا ہوتا ہے۔
کیمیکلز کا مخفی گورکھ دھندا اور خواتین کے لیے انتباہ
پروفیسر پرو ٹالبورٹ نے دنیا بھر کی خواتین بالخصوص حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی یا حاملہ خواتین کے لیے ایک سخت وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویپ بنانے والی کمپنیاں کبھی بھی اپنے پروڈکٹ کی پیکجنگ پر ان زہریلے کیمیکلز کے نام یا ان کی اصل مقدار درج نہیں کرتیں۔ ایک صارف کو کبھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ جو اسٹرابیری، ونیلا یا منٹ فلیور کا کش لے رہی ہے اس کے اندر کتنے ہزار مائیکرو گرام ونیلن یا دیگر مہلک زہر چھپے ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال روایتی سگریٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ روایتی سگریٹ کے نقصانات سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ویپ کو کول اور محفوظ سمجھ کر پیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی روزانہ کی مقدار روایتی سگریٹ سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
خاندانی نظام اور پبلک ہیلتھ پالیسی پر اثرات
اس تحقیق کے نتائج صرف لیبارٹری تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ پبلک ہیلتھ کے لیے ایک ریڈ الرٹ ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں ہیلتھ کیئر کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور ویپنگ پر کوئی سخت قوانین یا عمر کی حد نافذ نہیں ہے، وہاں یہ ایک خاموش بحران بن رہا ہے۔
طبی ماہرین اب یہ پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ:
حمل کے دوران یا حمل سے پہلے ویپنگ کو مکمل طور پر ترک کیا جائے۔
حکومتیں فلیورڈ ای سگریٹس کی درآمد اور فروخت پر سخت پابندیاں عائد کریں۔
عوام میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ "دھواں نہ ہونے کا مطلب نقصان نہ ہونا نہیں ہے۔
آج کی ماڈرن خاتون کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عارضی فیشن اور خوشبو کا یہ کش ان کے سب سے بڑے خواب یعنی ممتا کے سکھ کو ہمیشہ کے لیے چھین سکتا ہے۔ ویپنگ اور خواتین میں بانجھ پن کا رشتہ اب محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ سائنسی حقیقت بن چکا ہے جس سے نظریں چرانا آنے والی نسلوں کی تباہی کا سبب بنے گا۔






