پاکستان سے برطانیہ (UK) جانے کے خواہشمند افراد اکثر ویزا کنسلٹنٹس اور ایجنٹس کو لاکھوں روپے فیس کی مد میں دے دیتے ہیں حالانکہ برطانوی حکومت نے ویزا کا پورا نظام انتہائی شفاف اور سو فیصد آن لائن کر دیا ہے۔ اگر آپ کے پاس بنیادی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سمجھ بوجھ ہے تو آپ کسی بھی ایجنٹ کی مدد کے بغیر خود گھر بیٹھے برطانوی ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ خود اپلائی کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے پیسے بچتے ہیں اور فارم میں کسی قسم کی غلطی یا دھوکہ دہی کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔
رواں سال برطانوی ہوم آفس نے پاکستانی شہریوں کے لیے آن لائن پورٹل اور دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے نظام کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اگر آپ بھی کسی بھی کیٹیگری (وزیٹر، اسٹوڈنٹ، یا ورک ویزا) کے لیے یوکے ویزا آن لائن اپلائی کرنا چاہتے ہیں، تو یہ تفصیلی آرٹیکل آپ کو فارم بھرنے، فیس جمع کرانے اور بائیومیٹرک شیڈول کرنے کے مرحلہ وار طریقہ کار سے آگاہ کرے گا۔
آفیشل پورٹل پر اکاؤنٹ بنانا اور ویزا فارم بھرنا
برطانوی ویزا کی درخواست کا آغاز ہمیشہ برطانوی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ (gov.uk) سے ہوتا ہے۔ کسی بھی تیسری ویب سائٹ پر اپنی معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں۔
ویزہ کیٹیگری کا انتخاب: سب سے پہلے ویب سائٹ پر جا کر اپنی ضرورت کے مطابق ویزا کی قسم منتخب کریں۔ عام طور پر سیاحت یا فیملی سے ملنے کے لیے "Standard Visitor Visa” منتخب کیا جاتا ہے۔
اکاؤنٹ کی رجسٹریشن: اپنے ای میل ایڈریس کے ذریعے پورٹل پر اکاؤنٹ بنائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنا فارم ایک ہی وقت میں بھرنے کے بجائے مکھتلف حصوں میں سیو (Save) کر کے بھی مکمل کر سکتے ہیں۔
معلومات کا اندراج: فارم میں اپنا نام، پاسپورٹ کی تفصیلات، سفری تاریخ (Travel History)، پاکستان میں آپ کی نوکری یا کاروبار کی تفصیلات، اور ماہانہ آمدنی و اخراجات کا درست ترین اندراج کریں۔ یاد رہے کہ یہاں لکھی گئی ایک ایک بات کا ثبوت آپ کو دستاویزات کی شکل میں دینا ہوگا۔
یوکے ویزا فیس اور ہیلتھ سرچارج کی آن لائن ادائیگی
جب آپ اپنا آن لائن فارم مکمل اور اچھی طرح ریویو کر لیں گے، تو اگلا مرحلہ ویزا فیس کی ادائیگی کا ہوتا ہے۔
ویزا فیس (Visa Fees): چھ ماہ کے اسٹینڈرڈ وزٹ ویزا کی سرکاری فیس اس وقت تقریباً 115 برطانوی پاؤنڈز (GBP) ہے (قیمتیں وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں)۔ ورک اور اسٹوڈنٹ ویزا کی فیسیں اس سے مختلف ہوتی ہیں۔
ادائیگی کا طریقہ کار: یہ فیس صرف بین الاقوامی کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ (Visa/Mastercard) کے ذریعے آن لائن ہی جمع کی جا سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کارڈ آپ کے اپنے نام پر ہو، آپ کسی رشتہ دار کا کارڈ بھی استعمال کر سکتے ہیں بشرطیکہ اس پر انٹرنیٹ سیشن اور انٹرنیشنل ٹرانزیکشن ایکٹیو ہو۔
ہیلتھ سرچارج (IHS): اگر آپ اسٹوڈنٹ یا ورک ویزا پر طویل مدت کے لیے جا رہے ہیں تو آپ کو فیس کے ساتھ امیگریشن ہیلتھ سرچارج بھی ادا کرنا ہوگا جو برطانوی ہیلتھ سسٹم (NHS) کے استعمال کے لیے لازمی ہے۔
وی ایف ایس گلوبل (VFS Global) پر بائیومیٹرک سیٹ اپ
آن لائن فیس کی ادائیگی کے بعد، برطانوی پورٹل آپ کو خود بخود ان کے آفیشل ہینڈلنگ پارٹنر VFS Global کی ویب سائٹ پر ری ڈائریکٹ کر دے گا۔ پاکستان میں برطانوی ویزا کے بائیومیٹرک مراکز اسلام آباد، لاہور، کراچی اور میرپور میں واقع ہیں۔
اپائنٹمنٹ کی بکنگ: وی ایف ایس کی ویب سائٹ پر جا کر اپنے قریبی شہر کا انتخاب کریں اور بائیومیٹرک (انگلسیوں کے نشانات اور تصویر) کے لیے دستیاب تاریخ اور وقت بک کریں۔
دستاویزات اپ لوڈ کرنا (Document Uploading): یہ سب سے اہم ترین مرحلہ ہے۔ ایجنٹ کو پیسے دینے کے بجائے آپ اپنے تمام کاغذات (بینک اسٹیٹمنٹ، جاب لیٹر، ایف آر سی، پراپرٹی کے کاغذات) کو خود اسکین کر کے وی ایف ایس پورٹل پر مفت اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ خود اپ لوڈ نہیں کرنا چاہتے تو آپ بائیومیٹرک والے دن سینٹر پر جا کر فیس کے عوض ان کی ڈاکومنٹ اسکیننگ سروس بھی لے سکتے ہیں۔
برطانوی ویزا کے لیے درکار لازمی دستاویزات
بغیر ایجنٹ کے کامیابی سے ویزا حاصل کرنے کا راز آپ کے کاغذات کی مضبوطی میں ہے۔ آپ کے پاس درج ذیل دستاویزات کا ہونا لازمی ہے:
پاسپورٹ: کم از کم 6 ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ اور اگر پرانے پاسپورٹس موجود ہیں تو وہ بھی ساتھ شامل کریں۔
مالیاتی ثبوت (Financial Proof): پچھلے 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جس میں فنڈز کا جائز ذریعہ معلوم ہو اور اکاؤنٹ مینٹیننس سرٹیفکیٹ۔
آمدنی کا ثبوت: تنخواہ دار افراد کے لیے حالیہ 3 ماہ کی سیلری سلپ اور نوکری کا سرٹیفکیٹ۔ کاروباری افراد کے لیے ٹیکس ریٹرنز، این ٹی این (NTN) اور چیمبر آف کامرس کا سرٹیفکیٹ۔
فیملی ٹائز (Family Ties): نادرا کا جاری کردہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) یا شادی کا سرٹیفکیٹ (MRC)۔






