پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ یہ دورہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے۔ جدہ پہنچنے پر مکہ مکرمہ ریجن کے ڈپٹی گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز، سعودی وزیر برائے ماحولیات و زراعت عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی اور سعودی عرب میں متعین پاکستانی سفیر احمد فاروق نے وزیر اعظم کا شاندار اور پرجوش استقبال کیا۔ شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کوشاں ہے جس کی وجہ سے اس دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
خانہ کعبہ کی زیارت اور وفد کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی
اپنے سفارتی مصروفیات کا آغاز کرنے سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وفد نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا جہاں انہوں نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ عمرہ ادا کیا۔ اس مقدس سفر میں ان کے ہمراہ ایک مقتدر وفد موجود ہے جس میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف وفیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف اور عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
عمرہ کی ادائیگی کے دوران وزیر اعظم اور وفد کو خانہ کعبہ کے اندر جانے اور زیارت کی مبروک سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اس روحانی موقع پر پوری پاکستانی قیادت نے بیت اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھا کر پاکستان کی سلامتی، معاشی ترقی، امن و امان اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ وفد نے بالخصوص مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر جاری مظالم کے خاتمے اور عالمی امن کے لیے گڑگڑا کر دعائیں کیں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات اور سٹرٹیجک مذاکرات
اس دورے کا سب سے اہم سیاسی اور معاشی ایجنڈا وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط برادرانہ، تزویراتی اور معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔
مذاکرات کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
معاشی شراکت داری اور سرمایہ کاری: پاکستان میں جاری سعودی سرمایہ کاری کے منصوبوں، بالخصوص ریکوڈک مائننگ اور توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل : آرمی چیف کی موجودگی میں SIFC کے پلیٹ فارم سے سعودی عرب کو پاکستان کے زراعت، آئی ٹی اور دفاعی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال: مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال افغان سیکیورٹی اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک مشترکہ لائحہ عمل پر مشاورت کریں گے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif and the Pakistani delegation received a warm welcome in Jeddah from H.R.H. Prince Saud bin Mishaal bin Abdulaziz, Deputy Governor of the Makkah Region, and H.E. Eng. Abdulrahman AlFadley, Minister of Environment, Water and Agriculture, reflecting the… pic.twitter.com/rFlQc0a7xl
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 6, 2026
روضہ رسولؐ پر حاضری اور مدینہ منورہ کا سفر
مکہ مکرمہ اور جدہ کے شیڈول کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ مدینہ منورہ کا سفر بھی اختیار کریں گے۔ وہاں وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نوافل ادا کریں گے اور روضہ رسولؐ پر حاضری دے کر بارگاہِ رسالت میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کریں گے۔ پاکستانی قیادت کا یہ سرکاری و مذہبی دورہ پاک سعودی تعلقات کی اس منفرد جہت کو ظاہر کرتا ہے جو محض سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ عقیدت اور لازوال محبت کے گہرے رشتوں میں جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دورے کے دور رس نتائج پاکستان کی معیشت اور خطے کی سیاست پر مرتب ہوں گے۔






