پاکستان کے صنعتی اور معاشی منظر نامے میں ایک ایسی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جو ملک کو روایتی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی مینوفیکچرنگ کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مدد فراہم کرے گی۔ پاکستان اور ایک معروف چینی صنعتی فرم کے مابین ملک کے اندر ہی بین الاقوامی معیار کے اسپورٹس شوز تیار کرنے کا ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان سستی درآمدات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ملک کو برآمدات بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر صنعتی انقلاب کی ضرورت ہے۔
یہ شراکت داری محض دو کمپنیوں کا کاروباری معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ سی پیک کے دوسرے فریم ورک کے تحت چین سے پاکستان میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی منتقلی کا ایک عملی ثبوت ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد پاکستان میں اسپورٹس شوز کی تیاری کو فروغ دے کر نہ صرف مقامی مارکیٹ کی مانگ کو پورا کرنا ہے بلکہ پاکستان کو فٹ ویئر کی عالمی برآمداتی منڈیوں کا ایک بڑا حصہ بنانا ہے۔
روایتی فٹ ویئر سے ہائی ٹیک اسپورٹس شوز تک کا سفر
پاکستان روایتی طور پر چمڑے کی مصنوعات اور جوتے بنانے والے ممالک میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ لاہور، سیالکوٹ اور فیصل آباد جیسے شہروں میں جوتے بنانے والی سینکڑوں فیکٹریاں موجود ہیں لیکن جب بات اکیڈمک اور پروفیشنل اسپورٹس شوز (جیسے جاگنگ شوز، سنیکرز اور ایتھلیٹک بوٹس) کی آتی ہے تو پاکستان کا مقامی ڈھانچہ جدید ٹیکنالوجی سے محروم نظر آتا تھا۔
اسپورٹس شوز کی تیاری میں جدید تھرمو پلاسٹک پولیوریتھین (TPU)، ای وی اے (EVA) مڈ سولز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ڈیزائننگ سافٹ ویئرز کا استعمال ہوتا ہے، جن کی ٹیکنالوجی اب تک پاکستان کے پاس موجود نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ہر سال نائیکی (Nike)، ایڈیداس (Adidas) اور پیوما (Puma) جیسے برانڈز کے علاوہ عام اسپورٹس شوز بھی چین، ویتنام اور انڈونیشیا سے درآمد کرنے پڑتے تھے جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا تھا۔ چینی فرم کے ساتھ اس حالیہ معاہدے کے بعد یہ تمام جدید ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوگی جس سے ملک میں پہلی بار ربر اور پولیمر مولڈنگ کی جدید ترین لائنز لگائی جائیں گی۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور جوائنٹ وینچر کی اہمیت
اس تاریخی معاہدے کو ممکن بنانے میں حکومتِ پاکستان کی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ SIFC کے ون ونڈو آپریشنز کے تحت چینی سرمایہ کاروں کو زمین کی فراہمی، سیکیورٹی اور ٹیکسوں میں خصوصی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت لگنے والا مینوفیکچرنگ پلانٹ ایک مشترکہ منصوبے کی بنیاد پر کام کرے گا جہاں چینی فرم سرمایہ کاری اور مشینری فراہم کرے گی جبکہ پاکستانی پارٹنرز مقامی افرادی قوت اور زمین کا انتظام سنبھالیں گے۔
اس پلانٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس کی پیداواری صلاحیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا:
مقامی مارکیٹ کی فراہمی: ملک میں سستے اور عالمی معیار کے جوتے تیار کر کے امپورٹڈ شوز کا راستہ روکا جائے گا، جس سے عام پاکستانی صارفین کو کم قیمت پر بہترین برانڈڈ سنیکرز دستیاب ہوں گے۔
عالمی منڈیوں میں برآمدات: اس فیکٹری میں تیار ہونے والے جوتوں کا ایک بڑا حصہ "میڈ ان پاکستان” کے ٹیگ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور افریقی ممالک کو برآمد کیا جائے گا جس سے پاکستان کو سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
معیشت اور روزگار پر پڑنے والے دور رس اثرات
جب کسی ملک میں اسپورٹس شوز جیسی بڑی لیبر انٹینسیو انڈسٹری لگتی ہے تو اس کے اثرات معیشت کے تمام شعبوں پر گہرے ہوتے ہیں۔ اس جوائنٹ وینچر کے طویل مدتی فوائد درج ذیل ہیں:
۱۔ ہزاروں نئے روزگار کے مواقع
اس جدید مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام سے فیکٹری کے اندر ڈیزائنرز، کیمیکل انجینئرز، مشین آپریٹرز اور پیکیجنگ اسٹاف سمیت ہزاروں مقامی نوجوانوں کو براہِ راست ملازمتیں ملیں گی۔ اس کے علاوہ، ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے شعبے میں بھی روزگار کے بالواسطہ مواقع پیدا ہوں گے۔
۲۔ مقامی خام مال کا استعمال
پاکستان میں پیدا ہونے والا چمڑا، ٹیکسٹائل فیبرک اور کینوس اس فیکٹری میں خام مال کے طور پر استعمال ہوگا۔ اس سے پاکستان کی لوکل ٹیننگ (Tanning) اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بھی فروغ ملے گا اور ان کے کاروبار میں اضافہ ہوگا۔
۳۔ سیالکوٹ کی اسپورٹس انڈسٹری کو تقویت
پاکستان کا شہر سیالکوٹ دنیا بھر میں فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے سامان کے لیے مشہور ہے۔ اب پاکستان میں اسپورٹس شوز کی تیاری کا یہ سیٹ اپ سیالکوٹ کی اسپورٹس گڈز انڈسٹری کے لیے ایک بہترین سپورٹ بنے گا کیونکہ عالمی خریداروں کو اب ایک ہی ملک سے کھیلوں کا لباس، فٹ بال اور اسپورٹس شوز مل سکیں گے۔
چیلنجز جن پر قابو پانا ضروری ہے
کاغذ پر یہ معاہدہ جتنا شاندار دکھائی دیتا ہے فیلڈ میں اس کے نفاذ کے لیے پاکستان کو چند بنیادی چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔ سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ توانائی (بجلی اور گیس) کی مسلسل اور سستی فراہمی کا ہے۔ اگر فیکٹری کو مہنگی بجلی ملے گی تو مصنوعات کی لاگت بڑھ جائے گی جس کی وجہ سے پاکستانی جوتے عالمی منڈی میں چین یا ویتنام کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ دوسرا چیلنج بیوروکریٹک رکاوٹوں کا ہے حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خام مال کی درآمد اور برآمدات کی کلیئرنس کے دوران کسٹمز اور پورٹس پر چینی سرمایہ کاروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاکستان اور چینی کمپنی کے مابین اسپورٹس شوز کی مقامی سطح پر تیاری کا یہ معاہدہ پاکستان کی صنعتی تاریخ میں ایک نیا رخ متعین کر سکتا ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف صارفین کی مارکیٹ نہیں ہے بلکہ یہاں دنیا کی بہترین صنعتی مصنوعات تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اب یہ وزارتِ صنعت و تجارت اور مقامی سرمایہ کاروں کا امتحان ہے کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر فٹ ویئر مینوفیکچرنگ کا ایک نیا مرکز بناتے ہیں یا نہیں۔ اگر اس منصوبے کو کامیابی ملی تو وہ دن دور نہیں جب دنیا کے نامور ایتھلیٹس میڈ ان پاکستان اسپورٹس شوز پہن کر میدانوں میں اتریں گے۔






