امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا پینڈورا باکس کھولتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کا سعودی عرب کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے سویلین نیوکلیئر معاہدے سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کی منظوری ریاض کی جانب سے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے مشروط قرار دی گئی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک حالیہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان طے پانے والا جوہری معاہدہ مکمل طور پر سعودی عرب کی ابراہم ایکارڈز (Abraham Accords) میں شمولیت سے مشروط ہے۔ اس اچانک اعلان نے نہ صرف سفارتی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے بلکہ سعودی حکام کو بھی ایک انتہائی مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
امریکی نیوکلیئر معاہدہ اور ٹرمپ کا یوٹرن
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کیے جانے کے محض 24 گھنٹے بعد یہ نئی شرط سامنے آئی ہے۔ ابتدائی طور پر جب امریکی سیکرٹری توانائی نے اس معاہدے کا اعلان کیا تو اس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوئی شرط واضح نہیں تھی جس پر واشنگٹن میں پرو-اسرائیل لابی اور قدامت پسند میڈیا کی طرف سے شدید تنقید کی گئی۔ تنقید کے بعد صدر ٹرمپ نے فوری پوزیشن بدلتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ صرف غیر فوجی یا پرامن مقاصد جیسے کہ توانائی کے حصول کے لیے استعمال ہو سکے گا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا تو یہ ڈیل منسوخ سمجھی جائے گی۔
TRUMP SAYS SAUDI RECOGNITION OF ISRAEL WOULD BE REQUIRED FOR NUCLEAR DEAL
— Washington Eye (@washington_EY) July 23, 2026
President Donald Trump said Saudi Arabia would need to formally recognize Israel as part of any agreement involving U.S. support for a Saudi civilian nuclear program. The remarks link progress on a… pic.twitter.com/paXHToKrOd
سعودی عرب کا اصولی موقف اور فلسطینی ریاست کا سوال
سعودی عرب کا دیرینہ اور تاریخی موقف رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اس وقت تک بحال نہیں کرے گا جب تک فلسطینیوں کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا حق نہیں مل جاتا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ماضی میں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ سعودی عوام اور مسلم امہ کی رائے کے مطابق فلسطینی کاز کو نظر انداز کر کے کوئی بھی معاہدہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ کی اس نئی شرط کے بعد اب تک ریاض کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے کیونکہ سعودی عرب ایک طرف تو جدید امریکی نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن دوسری طرف وہ فلسطین کے بنیادی نظریے پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ابراہم ایکارڈز اور مشرقِ وسطیٰ کا نیا جیو پولیٹیکل نقشہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت سے ہی ابراہم ایکارڈز کو اپنی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے آئے ہیں جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش جیسے عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ اب ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا مقابلہ کرنے اور اسرائیل کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب، قطر اور پاکستان جیسے بڑے مسلم ممالک کو بھی اس دائرے میں لانا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دباؤ خطے میں ایک نئی سرد جنگ یا ہتھیاروں کی دوڑ کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اگر امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ نہ دیا تو ریاض سویلین جوہری پروگرام کے لیے چین یا روس کا رخ بھی کر سکتا ہے۔






