سعودی عرب کے لیبر مارکیٹ ریفارمز، پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ (الجوازات) اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم لاکھوں غیر ملکی گھریلو ملازمین کے سفارتی و انتظامی کوریڈورز سے ایک انتہائی اہم، ہنگامی اور بڑا ریگولیٹری بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی بہبود (MHRSD) نے باقاعدہ طور پر گھریلو ملازمین کے خروج نہائی یعنی فائنل ایگزٹ کے مینوئل قوانین کو یکسر تبدیل کرنے کا مینوفیکچرڈ پلان لائیو کر دیا ہے۔
اس نئے اسمارٹ اور سخت قانون کے نفاذ کے بعد اب باقاعدہ طور پر سعودی فائنل ایگزٹ نئے قوانین کا ڈیجیٹل فریم ورک نافذ العمل ہو چکا ہے۔ نئے اسمارٹ مینوئل کے مطابق اب کفیل اور گھریلو ملازم (جیسے ڈرائیور، ہاؤس میڈ، اور مالی) کے مابین فائنل ایگزٹ کے مینوئل تنازعات، بلیک مارکیٹنگ، اور ابشر پورٹل پر بغیر بتائے فائنل ایگزٹ لگانے کے پرانے کسٹمز کا جڑ سے خاتمہ کر دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی لیبر انڈیکس پر سعودی عرب کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ حاصل ہو۔
ابشر پورٹل پر آٹو ویریفیکیشن اور 100٪ فائنل ایگزٹ
سعودی الجوازات اور وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل سرکولر کے مطابق اب فائنل ایگزٹ کی پروسیسنگ کو محض کاغذی یا مینوئل مانیٹرنگ تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے 100 فیصد سوفٹ وئیر بیسڈ اور کلاؤڈ نیٹ ورک کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
اس نئے اسمارٹ سیکیورٹی کوریڈور کے تین بنیادی سائنسی اور ڈیجیٹل پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
ملازم کی ڈیجیٹل رضامندی : نئے سوفٹ ویئر رولز کے تحت اب کفیل مینوئل طریقے سے ملازم کی مرضی کے بغیر یکطرفہ فائنل ایگزٹ آٹو لاک نہیں کر سکتا۔ جب کفیل ابشر پورٹل پر درخواست اپ لوڈ کرے گا تو ملازم کے موبائل پر ایک آٹو جنریٹڈ الرٹ اور کیو آر کوڈ (QR Code) لائیو ہوگا، جس کی 10 روز کے اندر ڈیجیٹل منظوری لازمی ہے۔
بقایاجات کا لازمی کیش لیس آڈٹ: فائنل ایگزٹ فائنل ہونے سے پہلے سسٹم کا فنانشل ٹیرف ملازم کی تمام تر تنخواہیں، سروس اینڈ بینیفٹس اور بینکنگ ٹرانزیکشن لاگز کا سائنسی آڈٹ کرے گا تاکہ یہ توثیق ہو سکے کہ ملازم کو اس کے تمام واجبات کیش لیس موڈ میں منتقل ہو چکے ہیں۔
ٹریفک جرمانوں کی آٹو کٹوتی: اگر کسی غیر ملکی ڈرائیور یا ملازم کے نام پر کوئی مینوئل یا ڈیجیٹل ٹریفک جرمانہ پینڈنگ ہوگا تو کلاؤڈ سسٹم اس وقت تک فائنل ایگزٹ لاگ کو روک دے گا جب تک وہ فیس سوفٹ وئیر کے ذریعے پے نہیں کر دی جاتی۔
اقامہ لوپ ہولز کا خاتمہ اور کارپوریٹ مینیجرز کے لیے نئی گائیڈ لائنز
سعودی عرب کے کارپوریٹ مینیجرز اور امیگریشن ایکسپرٹس کے مطابق اس ویزا کوریڈور کے نفاذ سے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لاکھوں گھریلو ملازمین کے حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ ماضی میں متعدد کفیل ملازمین کے ساتھ تنازع کی صورت میں ان کا اقامہ کلاؤڈ ریکارڈ میں بلاک کر کے مینوئل حروف لگا دیتے تھے جس سے ملازم غیر قانونی ہو جاتا تھا۔
اب اس نئے فریم ورک کے تحت اگر ملازم فائنل ایگزٹ کی درخواست کو مسترد کرنا چاہے تو وہ وزارت کے آفیشل پورٹل پر لاگ ان کر کے متبادل کفالت کے لیے قانونی وائٹ لسٹنگ کی درخواست منٹوں میں آٹو سبمٹ کر سکتا ہے۔ اس اقدام سے سعودی عرب کے ہیومن رائٹس انڈیکس کو طویل مدتی استحکام حاصل ہوگا۔
ملازمین اور مینیجرز کی فوری تکنیکی معاونت کے لیے وزارت نے ایک مخصوص لائیو ڈیجیٹل ہیلپ ڈیسک اور یونیورسل ہیلپ لائن کو متحرک کر رکھا ہے جہاں سے شہری اپنے ٹرانزیکشن لاگز، ویزا اسٹیٹس اور فائنل ایگزٹ رولز کا آڈٹ گھر بیٹھے منٹوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔






