حالیہ مہینوں میں یو اے ای سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں نے ملک بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ورکرز اور ان کے اہلِ خانہ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان ورکرز بلکہ ان کے ہزاروں خاندانوں کے لیے بھی معاشی اور ذہنی پریشانی کا باعث بنی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس بحران کی وجوہات، ورکرز کی قانونی حیثیت اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ مدد اور ہیلپ لائنز کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی: پسِ منظر اور وجوہات
متحدہ عرب امارات نے اپنے ویزا قوانین اور لیبر مارکیٹ کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں پاکستانیوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر ڈی پورٹ کیا گیا ہے یا ان کے ویزوں کی تجدید نہیں کی گئی۔ اس کی بڑی وجوہات میں درج ذیل شامل ہیں:
ویزہ قوانین کی خلاف ورزی: رہائشی ویزہ (Residence Visa) کی میعاد ختم ہونے کے بعد غیر قانونی قیام۔
سیکیورٹی کلئیرنس: حالیہ عرصے میں سیکیورٹی پروٹوکولز کو سخت کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کئی ورکرز کو کلیئرنس نہیں مل سکی۔
جعلی دستاویزات: ویزہ کے حصول کے لیے غلط معلومات یا جعلی تعلیمی اسناد کا استعمال۔
بے دخل ہونے والے ورکرز کی قانونی حیثیت اور حقوق
وہ پاکستانی جو اس وقت یو اے ای میں موجود ہیں اور بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں، انہیں اپنی قانونی حیثیت واضح کرنی چاہیے۔ اگر کسی ورکر کا ویزہ کینسل ہو گیا ہے تو اسے ‘گریس پیریڈ’ کا فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ وہ قانونی طریقے سے ملک چھوڑ سکے یا نیا اسپانسر تلاش کر سکے۔
اگر آپ کو بلاوجہ بے دخل کیا جا رہا ہے تو آپ وزارتِ انسانی وسائل اور اماراتائزیشن (MOHRE) کے پورٹل پر اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
خاندانوں کے لیے ہیلپ لائن اور حکومتی تعاون
حکومتِ پاکستان نے بے دخل ہونے والے ورکرز اور ان کے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت نے مخصوص سیل قائم کیے ہیں جہاں قانونی مشورے اور واپسی کے عمل میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔
اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) ہیلپ لائن: 111-040-040 (پاکستان کے اندر سے)۔
وزارتِ سمندر پار پاکستانیز: سرکاری ویب سائٹ پر آن لائن شکایت سیل۔
پاکستانی سفارت خانہ ابوظہبی: کسی بھی ہنگامی قانونی امداد کے لیے سفارت خانے کے لیبر ونگ سے رابطہ کریں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے معاشی بحالی کے مواقع
حکومت نے بے دخل ہو کر واپس آنے والے ورکرز کے لیے ‘پردیس سے دیس’ جیسے پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ ان کی مہارت (Skills) کو مقامی صنعتوں میں استعمال کیا جا سکے۔ مزید برآں یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے تمام واجبات (Gratuity اور تنخواہ) وصول کرنے سے پہلے ملک نہ چھوڑیں۔
کسی بھی قانونی پیچیدگی کی صورت میں آپ وزارتِ خارجہ پاکستان کے قونصلر سروسز سیکشن سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔
مزید تازہ خبریں اور اہم معلومات کے لیے Urdu Khabar کا وزٹ ضرور کریں۔






