پاکستان کی خارجہ پالیسی، عالمی سفارت کاری اور جیو پولیٹیکل منظرنامے پر پائیدار روابط کو فروغ دینے کے حوالے سے نیویارک کے کلاؤڈ کوریڈورز سے ایک انتہائی اہم، ہنگامی اور بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس کے سائیڈ لائنز پر یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے ایک اعلیٰ سطحی ون آن ون پبلک ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے باقاعدہ طور پر پاکستان اقوام متحدہ سفارت کاری کے مینوفیکچرڈ پلان کے تحت کثیر الجہتی اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کی غیر مشروط اور دیرینہ وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں پر سختی سے کاربند ہے اور عالمی امن و ترقی کے فروغ کے لیے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کو سب سے اولین ترجیح تسلیم کرتا ہے۔
انتونیو گوٹیرس کی اصولی قیادت کا اعتراف اور مشرقِ وسطیٰ پر آڈٹ
سرکاری مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز مینوئل کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی متحرک اور جرات مندانہ قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے انسانیت کی فلاح و بہبود اور بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کے لیے سیکرٹری جنرل کے اصولی موقف کو سراہا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے درج ذیل اسمارٹ پیرامیٹرز پر غور کیا:
حقِ خودارادیت کا مطالبہ: وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے غیر مشروط حقِ خودارادیت اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کے پختہ اور مروجہ کونسل رولز کے موقف کو دہرایا۔
ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کا نفاذ: وزیراعظم نے خطے میں بڑھتے ہوئے ملٹری تناؤ کو کم کرنے کے لیے مینوئل جنگی مائنڈ سیٹ کو بدل کر فوری طور پر سوفٹ وئیر بیسڈ سفارت کاری اور بامعنی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی کا پھیلاؤ اور اسلامو فوبیا کے خلاف کڑی مانیٹرنگ
وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں سیکرٹری جنرل کو پاکستان کے قریبی پڑوس اور خطے میں ابھرتے ہوئے دو بڑے جیو پولیٹیکل خطرات کے بارے میں لائیو حساس کیا:
افغانستان سے دہشت گردی کا بحران: دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور افغان سرزمین سے پاکستان کے سرحدی کوریڈورز پر ہونے والے دہشت گردی کے لائیو حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال فوری بند ہونا چاہیے۔
اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر: وزیراعظم نے ہمارے فوری پڑوس میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے رجحانات اور مسلمان اقلیتوں کے خلاف مینوئل ہراسمنٹ پر بات کرتے ہوئے اس کے سدِباب کے لیے مؤثر بین الاقوامی ایکشن سوفٹ وئیر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف اور یو این سیکرٹری جنرل کا تہنیتی بیانیہ
ملاقات کے آخری فیز میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بین الاقوامی اسٹیج اور یو این کونسل کے اندر پاکستان کے متحرک کردار اور مضبوط آواز کو زبردست سراہا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملکی ریونیو و ہیومن لائف کے انڈیکس پر پاکستان کی لازوال قربانیوں کا تہہ دل سے اعتراف کیا۔
سیکرٹری جنرل نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل، بحر ہند کے تجارتی راستوں کے تحفظ اور پائیدار امن کی مینوفیکچرنگ کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی تعریف کی جو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا سافٹ امیج عالمی سطح پر مستقل فروغ پا رہا ہے۔






