بین الاقوامی سیاست اور دفاعی سفارت کاری کے میدان میں مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی بھرپور حمایت اور تحسین پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک مملکتِ سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر نہ صرف اپنے اپنے ممالک کے دفاع کو فول پروف بنائے گا بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک انتہائی تعمیری اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
جنوبی ایشیا میں جوہری تباہی کے سدباب پر امریکی صدر کی قیادت کی تعریف
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں خصوصی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرأت مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بروقت اور سنجیدہ سفارتی اقدامات نے حال ہی میں جنوبی ایشیا کے حساس خطے کو ایک ہولناک جوہری تباہی سے بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جس کی بدولت کروڑوں معصوم انسانی جانیں ضائع ہونے سے محفوظ رہیں۔
عسکری اور سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اور بحران کے دوران عالمی سطح پر امریکی ثالثی کا کردار خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس پس منظر میں مکہ معاہدے کے بعد امریکی انتظامیہ کا اس سٹریٹجک بلاک کی پشت پناہی کرنا اس بات کا غماز ہے کہ دنیا اب پاکستان کی عسکری اور سفارتی وزن کو تسلیم کر رہی ہے۔
Prime Minister @CMShehbaz has deeply appreciated the support of US President @realDonaldTrump on the signing of the Makkah Joint Defence Agreement@PakPMO #News #RadioPakistanhttps://t.co/cImyo1snxY pic.twitter.com/SMKQD6AUdY
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 17, 2026
پائیدار امن اور علاقائی خوشحالی کا بنیادی تقاضا
مکہ دفاعی معاہدے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کو اچھے طریقے سے واضح کیا کہ کسی بھی قوم کی روشن، ترقی یافتہ اور خوشحال مستقبل کی تشکیل کے لیے پائیدار امن سب سے پہلا اور لازمی تقاضا ہے۔ جب تک خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین یہ سہ فریقی سیکیورٹی ڈھانچہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور کسی بھی بیرونی یا داخلی خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی مشقوں اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو نکھارا جائے گا۔
عالمی اور علاقائی امن میں پاکستان کا کلیدی کردار
موجودہ پیچیدہ اور تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر جو سفارتی پختگی دکھائی ہے، اس نے عالمی برادری میں ملک کا وقار بلند کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان اس بات کا عزم ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود ہمیشہ امن کا علمبردار رہے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور اس پر عالمی طاقتوں بالخصوص امریکی قیادت کا مثبت ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عسکری اور سیاسی ادارے ملک کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔






