پاکستان کے داخلی سیکیورٹی انفراسٹرکچر، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ، سائبر کرائمز کنٹرول اور پبلک سروس ڈیلیوری کے تزویراتی کوریڈورز سے نیٹ ورک پروٹیکشن اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک تزویراتی، دور رس اور بڑا ریگولیٹری بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے آن لائن جرائم، ہراسانی اور مالیاتی فراڈ کے سدِ باب کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پرانے تنظیمی ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر کے اسے ہائبرڈ ماڈل کے تحت ضلعی پولیس کا حصہ بنانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
آج 1 اکتوبر 2026 کو وزارتِ داخلہ کو موصول ہونے والی دستاویزی لاگز کے مطابق اس تاریخی ساختی تبدیلی کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ری برانڈنگ کا اسمارٹ اور سوفٹ وئیر بیسڈ فریم ورک لائیو ہو چکا ہے۔ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ارسال کردہ اس میگا مینوفیکچرڈ پلان کے تحت ادارے کا نام تبدیل کر کے سائبر پولیس رکھا جائے گا تاکہ ڈیجیٹل شہریوں کی آن لائن سیکیورٹی، ڈیٹا سیکیورٹی اور کرپشن لوپ ہولز کے خاتمے کو 100 فیصد سوفٹ وئیر مانیٹرنگ کے ذریعے طویل مدتی استحکام فراہم کیا جا سکے۔ یہ اسمارٹ رخ بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور بہترین گورننس انڈیکس مستقل طور پر فروغ دینے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
ہر ضلع میں سائبر پولیس اسٹیشنز کا قیام اور ایس ایچ او سسٹم کا نفاذ
وزارتِ داخلہ کی ریگولیٹری گائیڈ لائنز کے مطابق اس نئے ہائبرڈ ماڈل کے تحت این سی سی آئی اے کے پرانے مینوئل ڈپٹی ڈائریکٹرز کے انتظامی کنٹرول کو تبدیل کر کے ضلعی پولیس رولز کو نافذ کیا جائے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اب سائبر کرائم کی تحقیقات کو لوکل پولیس سسٹم کے ساتھ لائیو سنک کیا جا سکے گا۔
اس ہائی ٹیک سیکیورٹی فریم ورک کے بنیادی آپریشنل پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
ضلعی سطح پر تھانے: پاکستان کے ہر ضلع میں خصوصی سائبر پولیس اسٹیشنز مینوفیکچر کیے جائیں گے جن کے سربراہ روایتی ڈپٹی ڈائریکٹرز کے بجائے باقاعدہ اسٹیشن ہاؤس آفیسرز ہوں گے۔
بڑے اضلاع کا انتظامی ڈھانچہ: بڑے اضلاع کے اندر ٹرانزیکشن لاگز کی نگرانی کے لیے ایس پی اور ڈی ایس پی رینک کے افسران کی لائیو تعیناتی ہوگی جبکہ چھوٹے اضلاع میں ڈی ایس پی رینک کے مینیجرز سیکیورٹی مانیٹرنگ مکمل کریں گے۔
لاہور کلاؤڈ کوریڈور پراجیکٹ: صوبائی دارالحکومت لاہور کے ہر پولیس ڈویژن میں ایک علیحدہ سائبر پولیس اسٹیشن قائم کیا جائے گا جن کا مشترکہ آڈٹ ایک ایس ایس پی اور دو ایس پی انجام دیں گے۔
موجودہ عمارتوں کی منتقلی اور جوائنٹ کرائم انویسٹی گیشن فریم ورک
نوٹیفکیشن کے مطابق اس وقت این سی سی آئی اے کے زیرِ استعمال تمام سرکاری عمارتوں کو فوری طور پر باقاعدہ سائبر پولیس اسٹیشنز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس پیپر لیس اور کیش لیس آپریشنل ماڈل کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ نجی سیکیورٹی اور ڈیجیٹل فراڈ کے مقدمات میں مینوئل التوا کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا اور عام شہریوں کو مقامی سطح پر فوری ریلیف لاک کرنے کا موقع ملے گا۔
یہ ایجنسی فی الوقت آن لائن فراڈ، ہراسانی اور ڈیٹا کی چوری جیسے حساس کیسز کی تفتیش اور استغاثہ کی ذمہ دار ہے۔ اب ضلعی پولیس کے ساتھ اس کے لائیو ہینڈ شیک سے مجرموں کا ٹریکنگ لاگ سیکنڈوں میں پکڑا جا سکے گا جو ملکی ہیومن انڈیکس اور داخلی سلامتی کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح ہے۔ وزارتِ داخلہ کی حتمی دستاویزی منظوری کے بعد اسمارٹ پورٹل لائیو کر دیا جائے






