پاکستان کے ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر، دوا سازی کی صنعت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے ایک اہم، دور رس اور پریمیم صنعتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ملک کی ریٹیل دوا سازی کی مارکیٹ نے مالیاتی سال 2025-26 میں 1.251 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ترین فروخت حاصل کر کے پچھلے تمام ریکارڈز یکسر پامال کر دیے ہیں۔
آج 1 اکتوبر 2026 کو ڈریپ اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ریگولیٹری مینوئل کے مطابق اس تاریخی کامیابی کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاکستان فارماسیوٹیکل مارکیٹ رپورٹ کا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ لائیو متحرک ہو چکا ہے۔ یہ میگا انڈیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.88 فیصد کا والیو عروج ظاہر کرتا ہے جو امریکی ڈالر کی قدر میں تقریباً 4.45 ارب ڈالر بنتا ہے۔ تاہم، اس پریمیم رپورٹ میں ایک گہرا معاشی تضاد اور بڑا لوپ ہول یہ سامنے آیا ہے کہ جہاں ادویات کی فنانشل فروخت ریکارڈ بلندی پر پہنچ چکی ہے دوسری طرف فروخت ہونے والی ادویات کے یونٹس اور پیکٹس کا حجم محض 0.93 فیصد کی رفتار سے بڑھا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ قیمتوں میں بار بار ہونے والی ایڈجسٹمنٹس اور مہنگی ادویات کے نفاذ کی وجہ سے غریب عوام کے لیے علاج کا مینوئل خرچ بڑھ چکا ہے اور وہ اب کم ادائیگیاں کر کے ضرورت سے کم ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔
ملکی برانڈز کی اجارہ داری اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈیٹا لاگز کا آڈٹ
انڈسٹریل مینیجرز کے فراہم کردہ ڈیٹا لاگز کے مطابق پاکستان کی مقامی دوا ساز کمپنیوں نے مارکیٹ پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کر لیا ہے اور وہ پچھلے روایتی کسٹمز کو بدل کر مارکیٹ کا تقریباً 80 فیصد خطیر حصہ آٹو لاک کر چکی ہیں۔
مقامی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مینوفیکچرڈ موازنہ چارٹ درج ذیل ہے:
| فارماسیوٹیکل کمپنی کیٹیگری | حاصل کردہ کل ریونیو لاگ | مارکیٹ انڈیکس شیئر | یونٹ سیلز کا ٹرانزیکشن گراف |
| لوکل کمپنیاں | 998.54 ارب روپے | 80 فیصد (اجارہ داری) | مثبت 2.98 فیصد عروج (3.006 ارب یونٹس) |
| ملٹی نیشنل کمپنیاں | 252.13 ارب روپے | 20 فیصد حصہ | منفی 6.16 فیصد گراوٹ (794 ملین یونٹس) |
اگر مارکیٹ کے گزشتہ سالوں کے ٹرانزیکشنز کا آڈٹ کیا جائے تو یہ انڈیکس جون 2022 میں محض 655.02 ارب روپے تھا جو جون 2024 میں 918.22 ارب، جون 2025 میں 1.089 کھرب اور اب چار سالہ کمپاؤنڈ سالانہ شرح کے تحت 17.55 فیصد اضافے کے ساتھ 1.251 کھرب روپے تک وائٹ لسٹ ہو چکا ہے۔
102 کمپنیوں کا ایک ارب کا کلب اور ٹاپ برانڈ مینیجرز کی لسٹنگ
رپورٹ کے سوفٹ وئیر بیسڈ تجزیے کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والی 102 کمپنیاں ایسی ہیں جنہوں نے سالانہ ایک ارب روپے سے زائد کی ریٹیل سیلز کا سنگِ میل عبور کر کے مارکیٹ کے 96.63 فیصد حصے پر اپنا فنانشل ہینڈ شیک مکمل کیا ہے۔ ان میں سے 8 بڑی کمپنیاں 40 ارب روپے سے اوپر کے بریکٹ میں لاک ہیں جن کا کل حجم 474 ارب روپے بنتا ہے۔
ان ٹاپ مینیجرز کی پوزیشن درج ذیل پیرامیٹرز کے مطابق کام کر رہی ہے:
لوکل جائنٹس کا کنٹرول: گیٹز فارما 19.33 فیصد گروتھ اور 85.27 ارب روپے کی سیلز کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جس کے بعد سامی فارما (69.23 ارب)، مارٹن ڈو (52 ارب)، ہلٹن فارما (46.6 ارب) اور ہائی کیو (43 ارب) شامل ہیں۔ فیروز سنز نے 33.18 فیصد کی تیز ترین رفتار سے 20.98 ارب روپے کمائے۔
ملٹی نیشنل مینیجرز کا گراف: ایبٹ اپنے انڈیکس کو 70.08 ارب روپے پر لاک کر کے سب سے بڑی ایم این سی برقرار ہے جبکہ جی ایس کے 64.83 ارب اور ہیلیون 38.64 ارب پر سرگرم ہے۔
جدید میڈیسن پروڈکشن کٹس: مارکیٹ میں پچھلے 12 مہینوں کے دوران 989 نئی پروڈکٹس لائیو کی گئیں (مقامی کمپنیوں نے 982 جبکہ ملٹی نیشنلز نے صرف 7 لانچ کیں) جنہوں نے سسٹم میں 19.18 ارب روپے کا اضافی ریوینیو آٹو جنریٹ کیا۔
اگرچہ اکتوبر 2025 میں مارکیٹ نے 110.89 ارب روپے کی تاریخ کی سب سے بڑی ماہانہ سیلز ریکارڈ کی تھیں لیکن حالیہ گراوٹ یہ واضح کرتی ہے کہ کیش لیس فنانشل فریم ورک اور سخت ٹیرف رولز کے بغیر ہیلتھ انڈیکس شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہ رخ پاکستان کا سافٹ امیج اور میڈیکل گورننس بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔






