حکومتِ پاکستان نے گلگت بلتستان میں پاک چین سرحد پر سوست ڈرائی پورٹ اور خنجراب پاس کو ایک جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس علاقائی تجارتی مرکز بنانے کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک منصوبے کا آغاز کر دیا ہے. وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سوست ڈرائی پورٹ کی توسیع کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرے تاکہ ملکی برآمدات کو بڑھایا جا سکے اور خطے میں لاجسٹکس نیٹ ورک کو مربوط کیا جا سکے.
سوست ڈرائی پورٹ کی توسیع اور انفراسٹرکچر کی جدید کاری
وفاقی حکومت کے نئے ایکشن پلان کے تحت خنجراب پاس اور سوست کے سرحدی مقامات پر کسٹمز، کلیئرنس اور کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا. احسن اقبال نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے ایک فعال، مربوط اور ڈیجیٹل لاجسٹک سسٹم ناگزیر ہے
منصوبے کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
ڈیجیٹل ٹریفک اور پورٹ مینجمنٹ: انڈر انوائسنگ اور کلیئرنس میں تاخیر کے خاتمے کے لیے پورٹ پر جدید سافٹ ویئر اور بائیومیٹرک اسکریننگ متعارف کرائی جا رہی ہے.
اسٹوریج اور کولڈ چین کی سہولیات: برآمدی اور درآمدی اشیاء (خصوصاً پھل اور زرعی مصنوعات) کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے بڑے گودام قائم کیے جائیں گے
زبان کی تربیت: سرحد پار تجارت میں آسانی کے لیے لاجسٹکس اور تجارتی شعبے سے وابستہ نوجوانوں کو چینی اور وسطی ایشیائی زبانوں کے خصوصی کورسز کروائے جائیں گے
افغانستان کا متبادل: وسطی ایشیا کے لیے نئی تجارتی راہداری
اس اسٹریٹجک منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ افغانستان کے ساتھ جاری سرحدی تنازعات اور بارڈر بندشوں کے باعث پاکستان نے وسطی ایشیائی ریاستوں (قازقستان، کرغیزستان، ازبکستان) کے ساتھ تجارت کے لیے خنجراب روٹ کو متبادل کے طور پر فعال کر دیا ہے.
حال ہی میں کواڈریلیٹرل ٹرانزٹ ٹریفک ایگریمنٹ (QTTA) اور بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (TIR) کے تحت کرغیزستان سے پہلا تجارتی ٹرک خنجراب کے راستے سوست پہنچا ہے، جس نے پاکستان کسٹمز کو ریکارڈ ریونیو فراہم کیا ہے. یہ نیا کاریڈور وسطی ایشیائی ممالک کو بغیر کسی رکاوٹ کے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک براہِ راست رسائی فراہم کر رہا ہے، جس سے پاکستان کے ٹرانزٹ حب بننے کے خواب کو عملی تعبیر مل رہی ہے.
مقامی تاجروں کے لیے ریلیف اور معاشی اثرات
ماضی میں ٹیکسوں کی بھرمار اور کسٹمز رولز کی وجہ سے گلگت بلتستان کے تاجروں نے سوست بارڈر پر طویل ہڑتالیں کیں جس کے بعد اب حکومت نے مقامی سطح پر استعمال ہونے والی اشیاء پر خصوصی ٹیکس چھوٹ کی بھی توثیق کی ہے. کسٹمز حکام کے مطابق موجودہ مالی سال میں سوست پورٹ نے ریکارڈ اربوں روپے کا ریونیو جمع کیا ہے. حکومت کا ماننا ہے کہ پاک چین سرحد پر سوست ڈرائی پورٹ کی اس توسیعی مہم سے نہ صرف سی پیک (CPEC) کے اگلے فیز کو فروغ ملے گا بلکہ گلگت بلتستان میں سیاحت اور روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے.






