اسپین کی وزارتِ داخلہ اور محکمہ قومی سلامتی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 49,000 غیر قانونی مہاجرین مراکش سے سمندری اور زمینی راستوں کے ذریعے ہسپانوی علاقے سیوٹا (Ceuta) میں داخل ہو چکے ہیں۔ شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع اس ہسپانوی محصور علاقے (Enclave) کی کل آبادی تقریباً 83,000 ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ایک ہی دن میں شہر کی آبادی کے نصف کے برابر نئے افراد یہاں پہنچ گئے ہیں۔ اس اچانک اور تاریخی ریلے نے مقامی سیکیورٹی فورسز کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے بعد ہسپانوی حکومت کو بارڈر کنٹرول بحال کرنے کے لیے فوج تعینات کرنی پڑی ہے۔
مراکش سے اسپین ہجرت میں اچانک تیزی کی سب سے بڑی وجہ
تجزیہ کاروں اور ہسپانوی حکام کے مطابق مراکش سے اسپین ہجرت کے اس غیر معمولی اضافے کے پیچھے ہسپانوی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ہے۔ رواں ماہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی حکم میں یہ طے کیا تھا کہ سمندر میں پکڑے جانے والے مہاجرین کو فوری طور پر (بغیر قانونی کارروائی کے) واپس مراکش نہیں بھیجا جا سکتا۔ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور مافیا نے اس قانونی رعایت کا فائدہ اٹھایا اور ہزاروں نوجوانوں اور خاندانوں کو سرحد پار کرنے پر اکسایا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے دھماکے کی شکل اختیار کر لی۔
Spain estimates some 49,000 migrants crossed into the enclave of Ceuta in North Africa over the past 24 hours, as they rushed by sea and land from Morocco https://t.co/sBZzgKOT9M pic.twitter.com/fmNh2iZq9i
— Reuters (@Reuters) July 31, 2026
سیوٹا سرحد پر افراتفری اور انسانی جانوں کا زیاں
اس بڑے ہجرتی سیلاب کے دوران سنگین انسانی المیہ بھی جنم لے چکا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ سمندر کی تیز لہروں اور ساحلی پتھروں سے ٹکرانے کے باعث کم از کم 18 سے 19 مہاجرین کی لاشیں پانی سے نکالی جا چکی ہیں جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ سرحد پار کرنے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے تاہم ان میں تقریباً 7,000 نابالغ بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جو ربڑ کی چھوٹی کشتیوں یا تیر کر سیوٹا کے ساحل تک پہنچے۔ شہر کی سڑکیں، پارکس اور فٹ پاتھ اس وقت مہاجرین سے بھرے پڑے ہیں کیونکہ مقامی پناہ گاہوں میں مزید لوگوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
ہسپانوی حکومت کا ردعمل اور یورپی یونین میں سفارتی تناؤ
سیوٹا کے صدر جوان جیزس ویواس نے ہسپانوی مرکزی حکومت سے فوری طور پر قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے خود سیوٹا کا دورہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس بحران نے یورپی ممالک کے درمیان بھی شدید سفارتی تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسپین کو یورپی یونین کے ‘شینگن ویزا فری زون’ سے معطل کرنے کی دھمکی دی ہے جس پر اسپین نے سخت احتجاج کیا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق اسپین اور مراکش کی افواج نے مشترکہ طور پر سرحد پر باڑ کو مزید مضبوط کر دیا ہے اور واٹر کینن کے استعمال کے بعد فی الحال مہاجرین کی آمد کا یہ سلسلہ عارضی طور پر تھم گیا ہے۔ تاہم ہزاروں افراد اب بھی مراکشی حدود میں سرحد پار کرنے کے منتظر ہیں۔






