Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

سورنج کان کا سانحہ: بلوچستان میں 34 مزدوروں کی موت سیکیورٹی کا حادثہ نہیں

حرا خلیل by حرا خلیل
جولائی 31, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز
سورنج کان کا سانحہ

بلوچستان کی مٹی ایک بار پھر اپنے ہی باسیوں کے خون سے رنگین ہو چکی ہے لیکن اس بار سورنج کان کا سانحہ گولیوں کی تھراہٹ سے نہیں بلکہ زمین کی گہرائیوں میں دم توڑتی انسانی سسکیوں سے جڑا ہے۔ ضلع کوئٹہ کے قریب واقع سورنج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے خوفناک دھماکے نے ایک ہی جھٹکے میں 34 محنت کشوں کو ہمیشہ کے لیے موت کی آغوش میں سلا دیا۔ ملبے تلے دبے ان مزدوروں کی لاشیں جب ایک ایک کر کے باہر نکالی جا رہی تھیں، تو ریاستی ایوانوں سے روایتی تعزیتی بیانات، تحقیقاتی کمیٹیوں کی تشکیل کے دعوے اور امدادی رقوم کے اعلانات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورنج کان کا سانحہ کوئی ناگہانی آفت، تقدیر کا فیصلہ یا اچانک رونما ہونے والا حادثہ نہیں تھا۔ یہ براہِ راست مجرمانہ غفلت، سرمایہ دارانہ بے حسی اور ریاستی اداروں کی عدم جوابدہی کا وہ بھیانک سلو پوائزن  ہے جو ہر سال سیکڑوں غریب کان کنوں کی زندگی کا چراغ گل کر دیتا ہے۔

جب تک ہم اس قسم کے سانحات کو محض ایک تکنیکی حادثہ قرار دے کر فائلیں بند کرتے رہیں گے، تب تک بلوچستان کی کانیں مزدوروں کے لیے روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کے مقتل کا منظر پیش کرتی رہیں گی۔

حادثہ یا قتلِ عمد؟ کوئلے کی کانوں کا اصل سچ

پاکستان بالخصوص بلوچستان میں مائننگ کا شعبہ آج بھی قرونِ وسطیٰ کے طریقوں پر چلایا جا رہا ہے۔ سورنج کی جس کان میں یہ ہولناک واقعہ پیش آیا وہاں زہریلی گیسوں (جیسے میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ) کی مانیٹرنگ کا کوئی جدید خودکار نظام موجود نہیں تھا۔ دنیا بھر میں مائننگ انڈسٹری ڈیجیٹل سینسرز، وینٹیلیشن کے خودکار نظام اور ایمرجنسی ایگزٹ (متبادل راستوں) کی پابند ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں کان کنوں کو صرف ایک بیلچے، ایک ٹوکرے اور سر پر لگی ایک کمزور ٹارچ کے سہارے سینکڑوں فٹ گہری سرنگوں میں اتار دیا جاتا ہے جہاں موت ہر وقت ان کا طواف کر رہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جسٹس فائز عیسی کیس میں نیا موڑ, اہلیہ نے بیان دے دیا

سائنسی نقطہ نظر سے، کوئلے کی کانوں میں گیس کا اخراج ایک قدرتی عمل ہے، لیکن اس گیس کا اس حد تک جمع ہو جانا کہ وہ دھماکے کی شکل اختیار کر لے اور مزدوروں کا دم گھٹ جائے، خالصتاً انتظامہ کی ناکامی ہے۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ قتلِ عمد ہے کیونکہ کان کے مالکان اور ٹھیکیدار اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیکیورٹی آلات پر آنے والے چند پیسوں کو بچانے کی قیمت ان مزدوروں کی جانوں کی صورت میں چکانی پڑے گی۔

محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور لیبر انسپکٹرز کا مجرمانہ کردار

اس پورے المیے میں سب سے بڑا سوالیہ نشان بلوچستان کے مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ اور لیبر ویلفیئر ونگ پر اٹھتا ہے۔ مائنز ایکٹ 1923ء (Mines Act 1923) کے تحت ہر کان کا باقاعدگی سے معائنہ کرنا وہاں آکسیجن کی مقدار کو چیک کرنا اور حفاظتی انتظامات ناقص ہونے پر کان کو فوری طور پر سیل کرنا ان سرکاری انسپکٹرز کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔

لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ:

کرپشن کا گٹھ جوڑ: مائنز انسپکٹرز اور طاقتور مائن اونرز (Mine Owners) کے درمیان ایک گہرا گٹھ جوڑ قائم ہے۔ باقاعدہ معائنے کے بجائے مبینہ ماہانہ رشوت اور اثر و رسوخ کے بلبوتے پر خطرناک ترین کانوں کو بھی ‘کلین چٹ’ دے دی جاتی ہے۔

کاغذی کارروائی: سیکیورٹی آڈٹ صرف فائلوں کی حد تک محدود ہوتے ہیں اور جب تک کوئی بڑا دھماکہ نہ ہو جائے، کوئی افسر ائیر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکلنے کی زحمت نہیں کرتا۔

جوابدہی کا فقدان: ماضی میں ہونے والے درجنوں سانحات (جیسے ہرنائی، دُکی اور مارواڑ کے واقعات) میں آج تک کسی ایک بھی بڑے ٹھیکیدار یا سرکاری انسپکٹر کو عبرتناک سزا نہیں دی گئی جس کی وجہ سے قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد فیصل آباد سے گرفتار

مائننگ مافیا کی بے حسی اور مزدوروں کا معاشی استحصال

سورنج کان کا سانحہ اس سرمایہ دارانہ نظام کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جہاں انسانی جان کی قیمت کوئلے کی ایک بوری سے بھی کم تر سمجھی جاتی ہے۔ ان کانوں میں کام کرنے والے اکثریت پسماندہ علاقوں، بالخصوص سوات، دیر، وزیرستان اور خود بلوچستان کے غریب ترین خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ وہ مجبور لوگ ہیں جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے روزانہ موت کی سرنگ میں اترتے ہیں۔

ان مزدوروں کا استحصال کئی سطحوں پر کیا جاتا ہے:

ای ایم بی آئی اور سوشل سیکیورٹی سے محرومی: جاں بحق ہونے والے 34 مزدوروں میں سے اکثریت کسی بھی سرکاری سوشل سیکیورٹی ادارے یا اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) میں رجسٹرڈ ہی نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیتے جی تو انہیں کوئی حقوق حاصل نہیں تھے مرنے کے بعد بھی ان کے پسماندگان کو پینشن یا طویل مدتی مالی امداد حاصل کرنے کے لیے سڑکوں پر خوار ہونا پڑے گا۔

ٹریڈ یونینز پر پابندی اور دباؤ: کان کنوں کی اپنی نمائندہ تنظیموں کو اس قدر کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حقوق اور بنیادی سیکیورٹی کٹس (جیسے گیس ڈیٹیکٹرز اور ریسپائریٹرز) کے لیے مؤثر آواز بھی نہیں اٹھا سکتیں۔

ابھرتا ہوا انسانی بحران اور ریاست کی ذمہ داری

عالمی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے قوانین کے مطابق خطرناک صنعتوں میں کام کرنے والے ہر فرد کی زندگی کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ لیکن پاکستان میں لیبر قوانین کا نفاذ ہمیشہ سے ایک مذاق رہا ہے۔ سورنج کے اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہماری ریاست غریبوں کے تحفظ کے معاملے میں کس قدر کھوکھلی ہو چکی ہے۔ 34 خاندانوں کے واحد کفیل اب منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں، اور ان کے پیچھے بلکتے یتیم بچے اور بیوائیں اس معاشی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان، چائنہ اور افغانستان کے وزرائے خارجہ آج افغانستان امن عمل پر تبادلہ خیال کریں گے

مشتعل پسماندگان اور سول سوسائٹی کا اب صرف ایک ہی مطالبہ ہے: ہمیں امدادی چیکوں کی خیرات نہیں، بلکہ انصاف اور جوابدہی چاہیے۔ ہمیں ان چہروں کے نام چاہئیں جن کی غفلت نے ان 34 افراد کا سانس چھینا۔

مائننگ سیکٹر کو مقتل بننے سے کیسے روکا جائے؟ (روڈ میپ)

اگر حکومتِ پاکستان اور حکومتِ بلوچستان واقعی اس خونریزی کو روکنے میں سنجیدہ ہیں، تو روایتی بیانات سے ہٹ کر درج ذیل ہنگامی اور انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے:

مطلوبہ اقداماتمتوقع نتائج اور اثرات
ڈیجیٹل سیکیورٹی آڈٹتمام کانوں میں سینسرز کی تنصیب اور گیس لیول بڑھنے پر خودکار الارم کا نظام۔
مائنز ایکٹ میں ترمیمغفلت کے مرتکب مالکان کے لیے قیدِ بامشقت اور کروڑوں روپے جرمانے کی سخت سزائیں۔
لازمی رجسٹریشنہر کان کن کی EOBI اور ہیلتھ کارڈ میں 100٪ رجسٹریشن کو یقینی بنانا۔
انسپکٹرز کا کڑا احتسابسانحہ سورنج کے ذمہ دار مائنز انسپکٹرز پر قتلِ عمد کے مقدمات کا اندراج۔

 وقتِ آخر اور ہمارے ضمیر کی عدالت

سورنج کان کا سانحہ ہمارے سیاسی، سماجی اور عدالتی نظام کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ اگر اس بار بھی عدالتی کمیشن کی رپورٹس کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا، اور اگر اس بار بھی کسی بااثر مائن اونر یا کرپٹ بیوروکریٹ کا گریبان نہ پکڑا گیا، تو یہ واضح ہو جائے گا کہ اس ملک میں غریب کا خون سستا اور کوئلے کی قیمت مہنگی ہے۔ 34 جنازے صرف بلوچستان کی مٹی میں دفن نہیں ہوئے بلکہ وہ ہماری عدلیہ، ہماری حکومت اور ہماری انسانیت کے دعوؤں کا جنازہ بھی ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ کانوں کے مالکان کے منافع کے بجائے مزدوروں کے سانسوں کی حفاظت کو ترجیح دی جائے، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

مزید تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔

حرا خلیل

حرا خلیل

حرا خلیل ایک لائف اسٹائل اور تفریحی صحافی ہیں جو پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری سے متعلق لکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں ثقافتی رجحانات، فنونِ لطیفہ، اور شوبز دنیا کی تازہ ترین سرگرمیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

سورنج کان کا سانحہ

سورنج کان کا سانحہ: بلوچستان میں 34 مزدوروں کی موت سیکیورٹی کا حادثہ نہیں

جولائی 31, 2026
احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی

احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی: خیبر پختونخوا حکومت کا مستحق طلبہ کے لیے مفت اعلیٰ تعلیم کا تاریخی فیصلہ

جولائی 31, 2026
کے پی کے کا اے آئی ٹریننگ پلان

 خیبر پختونخوا حکومت کا ہر شہری کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سکھانے کا تاریخی منصوبہ

جولائی 31, 2026
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن

ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ: وفاقی حکومت کا سول اور فوجی پینشنرز کے لیے بڑا ریلیف

جولائی 31, 2026
مراکش سے اسپین ہجرت

مراکش سے اسپین ہجرت: سیوٹا میں 24 گھنٹوں کے اندر 49 ہزار مہاجرین کے داخلے سے ہنگامی صورتحال

جولائی 31, 2026
نشانِ امتیاز ملٹری کی منظوری

نشانِ امتیاز ملٹری کی منظوری: صدر آصف زرداری نے جنرل سید عامر رضا کے لیے اعلیٰ ترین اعزاز کا اعلان کر دیا

جولائی 31, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

سورنج کان کا سانحہ

سورنج کان کا سانحہ: بلوچستان میں 34 مزدوروں کی موت سیکیورٹی کا حادثہ نہیں

جولائی 31, 2026
احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی

احساس اسکالرشپ پروگرام کی بحالی: خیبر پختونخوا حکومت کا مستحق طلبہ کے لیے مفت اعلیٰ تعلیم کا تاریخی فیصلہ

جولائی 31, 2026
کے پی کے کا اے آئی ٹریننگ پلان

 خیبر پختونخوا حکومت کا ہر شہری کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سکھانے کا تاریخی منصوبہ

جولائی 31, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.