کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کا 26 واں اہم ترین اجلاس کامیابی سے جاری ہے۔ اس اعلیٰ سطحی علاقائی بیٹھک میں پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم محمد شہباز شریف کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران ایک تاریخی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کے وزیر اعظم اور تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے سربراہان نے شنگھائی تعاون تنظیم کا مشترکہ اعلامیہ (بشکیک ڈیکلریشن) متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اس پر دستخط کر دیے۔ یہ مشترکہ اعلامیہ خطے میں پائیدار امن، اقتصادی شراکت داری اور سلامتی کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
بشکیک اعلامیے پر دستخط اور علاقائی تعاون کا عزم
بشکیک کے صدارتی کمپلیکس میں منعقدہ اس سربراہی اجلاس کی صدارت کرغزستان کے صدر صادر جباروف نے کی۔ اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر اہم عالمی رہنما شریک ہوئے۔ تمام رہنماؤں نے جس شنگھائی تعاون تنظیم کا مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں اس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹیں دور کرنا، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا، اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ اس اعلامیے کے ذریعے رکن ممالک نے کثیر الجہتی سفارت کاری اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانے کا پختہ عزم دہرایا ہے۔
Prime Minister @CMShehbaz has reaffirmed Pakistan's solemn resolve and commitment to realise the true potential of the Shanghai Cooperation Organization#SCO_CHS@PakPMO#News #RadioPakistanhttps://t.co/KId4mJwvZ7 pic.twitter.com/fatqCBiGJT
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 1, 2026
پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی اور صدارت کی منتقلی
اس اجلاس کی سب سے اہم کڑی پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس کامیاب اجلاس اور بشکیک اعلامیے پر دستخط کے ساتھ ہی پاکستان نے باقاعدہ طور پر سال 2026-2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی گھومتی ہوئی صدارت سنبھال لی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اگلے ایک سال تک اس بااثر علاقائی بلاک کے ایجنڈے اور ترجیحات کا تعین کرے گا اور 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے اگلے سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کرے گا۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صدارت سے پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر بڑے ممالک کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات بڑھانے کا سنہری موقع ملے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا قومی بیانیہ اور سائیڈ لائن ملاقاتیں
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کا مضبوط قومی بیانیہ پیش کیا۔ انہوں نے ایس سی او چارٹر اور اس کے بنیادی اصولوں پر پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن، معاشی استحکام، اور خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں۔ سربراہی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزیر اعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین سمیت دیگر رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا مشترکہ اعلامیہ پر دستخط ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری خطے کی ترقی کے لیے یکجا ہے اور پاکستان اس پورے عمل میں ایک انتہائی کلیدی اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔






