پاکستان کی خارجہ پالیسی، بین الاقوامی سفارت کاری اور جیو پولیٹیکل محاذ سے ایک انتہائی ہنگامی اور تزویراتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81ویں سالانہ اجلاس میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرنے اور عالمی رہنماؤں کے سامنے ملکی موقف پیش کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ جان ایف کینیڈی (JFK) انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتی عملے نے وزیراعظم کا شاندار استقبال کیا۔
اس اعلیٰ سطحی دورے کے آغاز کے ساتھ ہی وزیراعظم نیویارک اقوام متحدہ دورہ کا تزویراتی فریم ورک لائیو ہو چکا ہے۔ سفارتی مینیجرز کے مطابق اس تاریخی مشن کا بنیادی ہدف اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع، اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی کوششوں، پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مالیاتی بوجھ پر پاکستان کا اصولی مقدمہ سائنسی اور ڈیجیٹل خطوط پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ ملکی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کو عالمی دنیا تسلیم کرے۔
جنرل اسمبلی سے خطاب اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا اصولی مینوئل
وزارتِ خارجہ کی جانب سے مینوفیکچر کیے گئے آفیشل روڈ میپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی کے جنرل ڈبیٹ سیشن سے خطاب کریں گے۔ ان کا یہ خطاب پاکستان کے اسمارٹ ڈیفنس بیانیے کا آئینہ دار ہوگا جس میں وہ بین الاقوامی قوانین کی کریڈیبلٹی اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے لائیو اثرات کا سائنسی آڈٹ پیش کریں گے۔
وزیراعظم کے اس کلاؤڈ خطاب کے تین بنیادی اور اہم پیرامیٹرز درج ذیل ہیں:
حقِ خودارادیت کا مطالبہ: وزیراعظم بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کریں گے اور کشمیری عوام کے غیر مشروط حقِ خودارادیت کے لیے کونسل رولز کے نفاذ پر زور دیں گے۔
فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف آواز: مقبوضہ فلسطینی علاقوں (OPT) میں جاری اسرائیلی جارحیت کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا ہنگامی مطالبہ لائیو اسکرینز پر دہرائیں گے۔
کلائمیٹ فنانسنگ : سیلاب اور ماحولیاتی تباہی سے ہونے والے ملکی معاشی نقصان کا احاطہ کرتے ہوئے وزیراعظم ترقی یافتہ ممالک پر زور دیں گے کہ وہ پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کو کیش لیس فنانشل فنڈز اور گرین ٹیکنالوجی فراہم کریں۔
عالمی معاشی مینیجرز سے ملاقاتیں اور نجکاری کا اسمارٹ پلان
اپنے اس کثیر الجہتی دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف صرف سیاسی رہنماؤں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور کارپوریٹ مینیجرز کے ساتھ بھی انتہائی اہم معاشی بیٹھکیں کریں گے۔ وزیراعظم آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ مینیجرز سے ملاقات کر کے پاکستان میں جاری ساختی معاشی اصلاحات اور ریوینیو انڈیکس میں بہتری کے لائیو ٹرانزیکشن لاگز شیئر کریں گے۔
علاوہ ازیں، وہ وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں اور امریکی بزنس کسٹمرز کو پاکستان کے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے پورٹل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیں گے تاکہ پاکستان کے آئی ٹی، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا گراف مستقل طور پر بلند کیا جا سکے۔ یہ پیپر لیس اور کیش لیس معاشی نیٹ ورکنگ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کی گئی ہے۔
ڈیجیٹل شکایت پورٹل اور اوورسیز کسٹمرز کے لیے لائیو ہیلپ ڈیسک
وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے آخری فیز میں امریکہ میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے ممتاز مینیجرز اور نوجوان انٹرپرینیورز سے بھی ملاقات کریں گے۔ حکومتِ پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کے اثاثوں کے تحفظ اور نادرا (NADRA) سے جڑے ویزا و پاسپورٹ لوپ ہولز کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل اور یونیورسل ہیلپ لائن فعال کر دی ہے۔
شہری اس کلاؤڈ سسٹم پر لاگ ان کر کے اپنے مسائل کا آڈٹ چوبیس گھنٹے کروا سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ متحرک سفارتی اور معاشی رخ پاکستان کے سافٹ امیج کو بین الاقوامی دنیا کے سامنے ایک ذمہ دار، اسمارٹ اور شفاف ریاست کے طور پر مستقل طور پر فروغ دے گا۔






