پاکستان کے مالیاتی ریگولیٹری نظام، میکرو اکانومی اور بین الاقوامی اقتصادی سفارت کاری کے محاذ سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور تزویراتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، عالمی بینک اور ماحولیاتی فنڈز کے مینیجرز پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کی ہولناکیوں سے نبردآزما ملک کو ہنگامی بنیادوں پر بلا تاخیر فنانشل ریلیف فراہم کریں۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن کے سائیڈ لائنز پر عالمی اقتصادی مینیجرز کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر خزانہ نے باقاعدہ طور پر کلائمیٹ فنانسنگ فنڈز پاکستان کا اسمارٹ فریم ورک اور عالمی چارٹر لائیو کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں کاربن کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے لیکن اس کے باوجود وہ عالمی ماحولیاتی تباہی کے انڈیکس پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ٹاپ ممالک میں شامل ہے جو ملکی معاشی اشاریوں پر شدید ترین مالیاتی دباؤ مینوفیکچر کر رہا ہے۔
سیلاب کی ہولناکیاں اور ملکی ریوینیو پر منڈلاتا ہوا سنگین ترین معاشی خطرہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سائنسی اور دستاویزی شواہد پیش کرتے ہوئے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ حالیہ سالوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں اور گلیشیئرز پگھلنے کے لائیو حادثات نے پاکستان کے مینوفیکچرڈ پلانز، زراعتی انفراسٹرکچر اور دیہی کسٹمرز کو اربوں ڈالرز کا براہِ راست نقصان پہنچایا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ آڈٹ فریم ورک کے بنیادی پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
ترقیاتی فنڈز کا ماحولیاتی بوجھ: پاکستان کو اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا مینوئل حصہ سیلاب سے تباہ ہونے والے اسکولوں، سڑکوں اور ہاسپٹل سیفٹی کٹس کی دوبارہ تعمیر پر خرچ کرنا پڑتا ہے جس سے ہیلتھ کیئر اور ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے فنڈز شدید متاثر ہوتے ہیں۔
سود پر مبنی قرضوں کا لوپ ہول: وزیر خزانہ نے سخت موقف اختیار کیا کہ عالمی اداروں کو اب روایتی مینوئل قرضوں کے کسٹمز کو بدل کر پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کو آسان شرائط پر پیپر لیس گرانٹس اور کیش لیس فنانشل ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔
گرین فنانشل پروڈکٹس کا نفاذ: وفاقی حکومت نے نادرا اور اسٹیٹ بینک کے مرکزی کلاؤڈ سسٹم کے ساتھ مربوط گرین بانڈز مینوفیکچر کرنے کا روڈ میپ تیار کیا ہے تاکہ ماحول دوست پراجیکٹس کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری لائیو کی جا سکے۔
گلوبل کلائمیٹ فنڈز (GCF) کا آڈٹ اور کارپوریٹ مینیجرز کے لیے گائیڈ لائنز
وزیر خزانہ نے کارپوریٹ مینیجرز اور بین الاقوامی بینکنگ کسٹمرز کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی مالیاتی شفافیت کو 100 فیصد سوفٹ وئیر بیسڈ اور پیپر لیس بنا دیا ہے تاکہ عالمی فنڈز میں کسی بھی قسم کے مینوئل ردوبدل یا بلیک مارکیٹنگ کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔ حکومت نے تمام ماحولیاتی فنڈز کی جیو ٹیگنگ اور لائیو اسکیننگ پورٹل فعال کر رکھا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ملنے والی تمام تر فنانشل سبسیڈیز براہِ راست حقدار پراجیکٹس میں کیش لیس موڈ میں منتقل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے ایس آئی ایف سی (SIFC) کے پورٹل کا حوالہ دیتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے متبادل توانائی ، سولر پاور کٹس اور اسمارٹ زراعت کے شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا گراف بلند کریں جو پاکستان کے سافٹ امیج کو بین الاقوامی دنیا کے سامنے مستقل طور پر فروغ دے گا۔






