پاکستان کے سیاسی منظرنامے، داخلی سیکیورٹی کوریڈورز اور عوام پر منڈلاتے ہوئے پٹرولیم ٹیکسز کے مالیاتی بوجھ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، ہنگامی اور بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی درخواست پر پارٹی نے اپنا فلیگ شپ لانگ مارچ چند دنوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
ملتان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ اس جماعت اسلامی لانگ مارچ تاخیر کا بنیادی مقصد تصادم اور ملکی سیکیورٹی انڈیکس کو خراب ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں کسی بھی قسم کی افراتفری یا امن و امان کی صورتحال پیدا نہیں کرنا چاہتی بلکہ وہ پبلک ریلیف اور فنانشل ٹیرف رولز میں نرمی کے لیے حکومت کو مذاکرات کا ایک آخری سائنسی موقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا نیویارک سے ٹیلیفونک رابطہ
یہ تزویراتی سیاسی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب جماعتِ اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خلاف تاریخی ٹرین مارچ راولپنڈی اور لاہور سے ہوتا ہوا پیر کی رات دیر گئے ملتان ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے جو اس وقت اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے لیے نیویارک کے دورے پر ہیں حافظ نعیم الرحمن سے فون پر رابطہ کیا۔
سفارتی اور سیاسی مینیجرز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی گفتگو کے درج ذیل تین بنیادی پیرامیٹرز مینوفیکچر کیے گئے ہیں:
بامعنی مذاکرات کی یقین دہانی: وزیراعظم نے حافظ نعیم الرحمن سے درخواست کی کہ وہ ان کی پاکستان واپسی تک لانگ مارچ کو عارضی طور پر ہالٹ رکھیں جس کے بعد پٹرولیم لیوی پر بامعنی سوفٹ وئیر بیسڈ مذاکرات کیے جائیں گے۔
کاروانوں کے اسٹیشنز فکس: امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جب تک وزیراعظم سے فائنل میٹنگ نہیں ہو جاتی تب تک ملک بھر سے آنے والے کاروان لائیو وہیں رکیں گے جہاں وہ اس وقت موجود ہیں۔
پروٹیسٹ کا حق برقرار: حافظ نعیم نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا مطلب احتجاج کا خاتمہ ہرگز نہیں ہے پارٹی اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور اپنی ملک گیر مہم کو کڑی مانیٹرنگ کے ساتھ لائیو رکھے گی۔
پٹرولیم لیوی کو بھتہ ٹیکس قرار دینے کا مائنڈ سیٹ اور معاشی اشاریوں پر دباؤ
ملتان ریلوے اسٹیشن پر ہزاروں حامیوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی کابینہ کے فنانشل فریم ورک پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو غریب اور متوسط طبقے پر ایک مینوئل بھتہ ٹیک قرار دیا، جس نے ملکی صارفین کا انکم انڈیکس بری طرح تباہ کر دیا ہے۔
انہوں نے معاشی اشاریوں کا سائنسی آڈٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کا عام شہری گندم، آٹے، چینی اور بجلی کے مہنگے ٹیرف کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہے جبکہ روایتی سیاسی جماعتیں پبلک انفراسٹرکچر اور غریبوں کے حقوق کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے اپنی مرکزی شوریٰ کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی وزیراعظم کی درخواست پر اس تاخیر کی منظوری دی ہے تاکہ معیشت کو احتجاج کی وجہ سے اربوں روپے کے لاجسٹک نقصانات سے بچایا جا سکے۔






