سعودی عرب میں کاروبار شروع کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں، مقامی اسٹارٹ اپس اور افرادی قوت فراہم کرنے والے بین الاقوامی مینیجرز کے لیے ایک بہت بڑی اور تزویراتی ریگولیٹری تبدیل سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے اپنے مرکزی ڈیجیٹل لیبر پورٹل قویٰ کے ذریعے نئی قائم ہونے والی کمپنیوں کے لیے فوری ورک ویزا کے ضوابط کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت اب سعودی ورک ویزا کوٹہ تبدیل کر کے اسے کمپنیوں کی عمر، نتاقات کیٹیگری اور لوکلائزیشن کی کارکردگی سے براہِ راست مشروط کر دیا گیا ہے۔
اس دور رس سائنسی فیصلے کا بنیادی مقصد سعودی ویژن 2030 کے معاشی اشاریوں کے مطابق نجی شعبے میں مقامی شہریوں کے روزگار کو پہلے ہی دن سے یقینی بنانا ہے۔ پچھلے لبرل فریم ورک کے برعکس، جہاں نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کو ویزوں کے حصول میں مینوئل لچک حاصل تھی اب کلاؤڈ سوفٹ وئیر مانیٹرنگ کے ذریعے سخت ترین حدیں فکس کر دی گئی ہیں۔
کمپنی کی عمر کے لحاظ سے نئے ویزا کوٹہ کا اسٹرکچرل فریم ورک
وزارتِ انسانی وسائل نے قویٰ (Qiwa) پورٹل پر نئے ریگولیٹری قوانین کا مینوئل جاری کیا ہے جس کے تحت کاروباری اداروں کو ان کی مدتِ آپریشن کی بنیاد پر درج ذیل تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے:
دو سال سے کم عمر کمپنیاں: ایسی تمام نئی اسٹیبلشڈ کمپنیاں جنہیں قائم ہوئے ابھی دو سال سے کم کا عرصہ ہوا ہے وہ اب زیادہ سے زیادہ صرف 5 فوری ورک ویزے حاصل کرنے کی مجاز ہوں گی۔
دو سال سے زائد پرانی کمپنیاں: وہ تجارتی ادارے جو مارکیٹ میں دو سال سے زائد عرصے سے کامیابی سے آپریشنل ہیں وہ کسٹمز کلیئرنس کے بعد زیادہ سے زیادہ 50 ورک ویزے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ویزے ایک سنگل درخواست یا ایک ہی ہفتے کے اندر متعدد درخواستوں کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اسٹیبلشنگ پروگرام : اس تربیتی اور ترقیاتی پروگرام کا حصہ بننے والی کمپنیوں کو ابتدائی طور پر صرف 2 ورک ویزے جاری کیے جائیں گے۔ جیسے جیسے یہ کمپنیاں پروگرام میں سائنسی پیشرفت کریں گی اور نتاقات ٹیرف کو بہتر بنائیں گی ان کا ویزا کوٹہ خودکار سوفٹ وئیر کے ذریعے بڑھا دیا جائے گا۔
نتاقات (Nitaqat) ریٹنگ اور قویٰ (Qiwa) کمپلائنس کی 10 سخت شرائط
مرکزی لیبر مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ اس نئے کوٹہ سسٹم کا فائدہ اٹھانے کے لیے کمپنیوں کو قویٰ پورٹل پر 10 بنیادی اور سخت ترین ڈیجیٹل شرائط کو لازمی پورا کرنا ہوگا:
میڈیم گرین ریٹنگ: کمپنیوں کا نتاقات سسٹم کے تحت کم از کم میڈیم گرین یا اس سے اعلیٰ کیٹیگری میں ہونا لازمی ہے۔
ڈیجیٹل کنٹریکٹ وریفیکیشن: وزارت کے نئے قوانین کے مطابق کمپنیوں کے لیے اپنے 90 فیصد ملازمین کے روزگار کے معاہدے قویٰ پورٹل پر ڈیجیٹل اسکین کرانا لازمی ہے۔ جو معاہدے ڈیجیٹل رجسٹرڈ نہیں ہوں گے انہیں سعودیائزیشن کا حصہ نہیں مانا جائے گا۔
ویج پروٹیکشن سسٹم : کمپنی کسی بھی قسم کی مالیاتی خلاف ورزی سے پاک ہو اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کلاؤڈ بینکنگ مینوئل کے مطابق وقت پر کر رہی ہو۔
سرکاری پورٹلز پر بیلنس: اداروں کے لیے ابشر اور مقیم جیسے سرکاری پلیٹ فارمز پر کافی مالیاتی کریڈٹ برقرار رکھنا لازمی ہے۔
پاکستانی افرادی قوت اور مائیگریشن مارکیٹ پر دور رس اثرات
سعودی عرب کا یہ نیا قانون پاکستان کی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروڈکشن انڈسٹری پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ چونکہ پاکستان سے بڑی تعداد میں ہنرمند اور غیر ہنرمند ورکرز نئی سعودی کمپنیوں کے ویزوں پر مائیگریشن کرتے ہیں اس لیے اب سپلائی چین مینیجرز کو صرف ان کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے ہوں گے جو نتاقات کے گرین زون میں فال کرتی ہیں۔ اگر کوئی نئی کمپنی اپنا لوکل کوٹہ پورا نہیں کرے گی تو اس کا ویزا مینوئل بلاک کر دیا جائے گا جس سے آزاد ویزا کسٹمز کے نام پر ہونے والے دھوکہ دہی کا بھی مکمل خاتمہ ہوگا






