خیبر پختونخوا کے تعلیمی حلقوں، نجی و سرکاری اسکولوں کے سربراہان اور لاکھوں طلبہ کے لیے سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ ایبٹ آبادکی جانب سے ایک انتہائی اہم، ہنگامی اور بڑا ریگولیٹری بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ بورڈ انتظامیہ نے تعلیمی سیشن کے عمل کو شفاف بنانے اور امتحانی ڈیٹا لاگز کو محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایبٹ آباد بورڈ رجسٹریشن قوانین کا پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ انفراسٹرکچر فعال کر دیا ہے۔
اس نئے اسمارٹ ریگولیٹری فریم ورک کا بنیادی ہدف نویں (9th) اور گیارہویں (11th) جماعت کے طلبہ کی مینوئل انٹری کے دوران ہونے والی کلرک مافیا کی غلطیوں، جعلی داخلوں اور رول نمبر سلپ کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ بورڈ کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور الحاق شدہ تمام تعلیمی اداروں کے مینیجرز پر لازم ہے کہ وہ اپنے طلبہ کا ڈیٹا بیس مقررہ تاریخ سے پہلے بورڈ کے پورٹل پر لائیو وائٹ لسٹ کریں۔
نادرا فارم بی کی لائیو اسکیننگ اور بائیومیٹرک لازمی قرار
ایبٹ آباد بورڈ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل اور ریگولیٹری گائیڈ لائنز کے مطابق، اب پرانے اور مینوئل طریقے سے لکھے گئے کاغذات اور اسکول لیوینگ سرٹیفکیٹس کو داخلے کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے دیا گیا ہے۔ تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ رجسٹریشن فارم فل کرتے وقت طالب علم کا نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) سے منظور شدہ اصل کمپیوٹرائزڈ فارم بی (B-Form) نمبر لازمی فراہم کریں۔
اس ڈیجیٹل کوریڈور کے تین ضوابط درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
نام اور تاریخِ پیدائش کا آٹو میچ: رجسٹریشن سوفٹ ویئر خودکار طریقے سے نادرا کے کلاؤڈ پورٹل سے لائیو رابطہ کرے گا، جس سے طالب علم کے نام، ولدیت اور تاریخِ پیدائش میں کسی بھی قسم کی مینوئل تبدیلی یا جعل سازی کا امکان 100 فیصد ختم ہو جائے گا۔
والدین کے فعال موبائل نمبرز: داخلہ فارم کے کلاؤڈ ریکارڈ میں والدین کا وہی موبائل فون نمبر درج کرنا فرض ہے جو پہلے سے نادرا ریکارڈ میں ایکٹیو ہو تاکہ بورڈ کی جانب سے تمام امتحانی الرٹس آٹو جنریٹ ہو کر منٹوں میں پہنچ سکیں۔
تصویر کی لائیو اپ لوڈنگ: طلبہ کی تصاویر کو مینوئل گوند سے چسپاں کرنے کے بجائے اسمارٹ اسکیننگ کٹس کے ذریعے ہائی ریزولیوشن فارمیٹ میں اپ لوڈ کیا جائے گا تاکہ امتحانی ہالز میں بائیومیٹرک کلیئرنس فول پروف ہو۔
آن لائن فیس ٹیرف رولز اور کیش لیس بینکنگ کا فنانشل فریم ورک
بورڈ کے فنانشل مینیجرز نے سفارش اور رشوت کے کسٹمز کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے تمام فنانشل اکاؤنٹس کو کیش لیس موڈ میں منتقل کر دیا ہے۔ اب بورڈ کا کوئی بھی اہلکار نقد رقم یا مینوئل بینک چالان براہِ راست وصول کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
نئے فائنینشل فریم ورک کے تحت ادائیگیوں کا اسمارٹ طریقہ کار یہ ہے:
راست کیو آر کوڈ : اسکول انتظامیہ یا کسٹمرز بورڈ کے آفیشل پورٹل پر لاگ ان کر کے ایزی پیسہ، جیز کیش یا کسی بھی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اپنی رجسٹریشن فیس پے کر سکیں گے۔
لیٹ فیس کا جرمانہ آٹو لاک: مقررہ آخری تاریخ کے گزرتے ہی سوفٹ ویئر کا فنانشل ٹیرف رول خود بخود اپ ڈیٹ ہو جائے گا اور سسٹم میں لیٹ فیس کا چالان آٹو جنریٹ ہو جائے گا جسے مینوئل طور پر تبدیل کرنا کسی بھی مینیجر کے لیے ناممکن ہوگا۔
کسٹمرز کے لیے ڈیجیٹل ہیلپ ڈیسک اور لائیو مانیٹرنگ سپورٹ
ایبٹ آباد بورڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ اصلاحات تعلیمی اشاریوں کو بہتر بنانے اور خیبر پختونخوا کے سافٹ امیج کو بین الاقوامی تعلیمی کونسل رولز کے مطابق ڈھالنے کے لیے مینوفیکچر کی گئی ہیں۔ اگر کسی اسکول مینیجر یا طالب علم کو آن لائن پورٹل پر ڈیٹا سنک ، نیٹ ورک ٹائم آؤٹ، یا دستاویزاتی خرابی کی شکایت ہوتو وہ فوری طور پر بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ biseatd.edu.pk پر لاگ ان کر کے لائیو سپورٹ حاصل کر سکتا ہے یا ان کے لائیو ہیلپ ڈیسک نمبر پر کال کر کے اپنے ٹرانزیکشن لاگز کا تکنیکی آڈٹ کروا سکتا ہے۔






