حکومت پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ایک غیر معمولی اور بڑی خوشخبری دی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بھاری ٹیکسوں تلے دبے سرکاری اور نجی ملازمین کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے پرانے ٹیکس اسٹرکچر کو یکسر تبدیل کرتے ہوئے نہ صرف ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کر دی گئی ہے، بلکہ اعلیٰ آمدن والے افراد پر عائد 9 فیصد اضافی سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
چونکہ یہ نیا قانون یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو رہا ہے اس لیے اگلے مہینے ملنے والی سیلری میں تنخواہ دار طبقے کا انکم ٹیکس نئے فارمولے کے تحت کٹے گا۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں کہ حکومت نے کن سلیبز میں ٹیکس کم کیا ہے اور آپ خود اپنی تنخواہ کا ٹیکس کیسے کیلکولیٹ کر سکتے ہیں۔
بجٹ 2026-27 کے تحت نئے سیلری ٹیکس سلیبز (FBR Tax Slabs)
نئے بجٹ کے مطابق سالانہ 22 لاکھ روپے تک کمانے والے کم آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس ریٹ پرانی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے جبکہ 22 لاکھ سے لے کر 70 لاکھ روپے سالانہ (تقریباً 1 لاکھ 83 ہزار سے 5 لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ) کمانے والے مڈل اور اپر مڈل کلاس طبقے کے ٹیکس میں 3 سے 6 فیصد تک کی بڑی کٹوتی کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے منظور کردہ نئے انکم ٹیکس سلیبز درج ذیل ہیں:
سالانہ 6 لاکھ روپے تک (ماہانہ 50,000): 0 فیصد ٹیکس (مکمل چھوٹ)۔
6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک: 6 لاکھ سے زائد رقم پر 1 فیصد فکسڈ ٹیکس۔
12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک: 6,000 روپے پلس 12 لاکھ سے زائد رقم پر 11 فیصد ٹیکس۔
22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک: پرانا ٹیکس 23% تھا، جو اب کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔
32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک: پرانا ٹیکس 30% تھا، جو اب کم کر کے 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک: پرانا ٹیکس 35% تھا، جو اب کم کر کے 29 فیصد کر دیا گیا ہے۔
56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک: اس نئے انٹرمیڈیٹ سلیب کے لیے ٹیکس ریٹ 32 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
70 لاکھ روپے سالانہ سے زائد: 70 لاکھ سے زائد کی آمدن پر فلیٹ 35 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
نئے اور پرانے ٹیکس ریٹس کا واضح موازنہ
| سالانہ آمدنی کا سلیب (PKR) | پرانا ٹیکس ریٹ (FY 2025-26) | نیا ٹیکس ریٹ (FY 2026-27) | ٹیکس میں کمی (ریلیف) |
| 22 لاکھ سے 32 لاکھ تک | 23% | 20% | 3% کم |
| 32 لاکھ سے 41 لاکھ تک | 30% | 25% | 5% کم |
| 41 لاکھ سے 56 لاکھ تک | 35% | 29% | 6% کم |
| 56 لاکھ سے 70 لاکھ تک | 35% | 32% | 3% کم |
اگلے مہینے کا ٹیکس کیلکولیٹ کرنے کا آسان طریقہ (عملی مثالیں)
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگلے مہینے آپ کے اکاؤنٹ میں آنے والی نیٹ سیلری کتنی ہوگی تو آپ درج ذیل مثالوں کی مدد سے اپنے ٹیکس کا خود حساب لگا سکتے ہیں:
مثال نمبر 1: ماہانہ تنخواہ 1,00,000 روپے (سالانہ 12 لاکھ روپے)
سالانہ مجموعی آمدن: 1,200,000 روپے
ٹیکس کیلکولیشن: پہلے 6 لاکھ روپے ٹیکس فری ہیں۔ باقی بچے 6 لاکھ روپے پر 1 فیصد ٹیکس لگے گا۔
سالانہ ٹیکس: 6,000 روپے
ماہانہ کٹوتی: اگلے مہینے آپ کی تنخواہ سے صرف 500 روپے ٹیکس کٹے گا۔ (اس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی)۔
مثال نمبر 2: ماہانہ تنخواہ 3,00,000 روپے (سالانہ 36 لاکھ روپے)
سالانہ مجموعی آمدن: 3,600,000 روپے
ٹیکس کیلکولیشن: یہ آمدنی 32 سے 41 لاکھ والے سلیب میں آتی ہے جس کا ٹیکس 30% سے کم ہو کر 25% ہو چکا ہے۔
ٹیکس ریلیف کا اثر: نئے بجٹ کے بعد اس بریکٹ میں آنے والے ملازمین کو سالانہ تقریباً 30,000 سے 50,000 روپے تک کی بچت ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ اگلے مہینے آپ کے ہاتھ میں آنے والی ٹیکس کٹوتی کے بعد کی رقم (Take-home Pay) بڑھ جائے گی۔
اس کے علاوہ وہ اعلیٰ پیشہ ور افراد (High Earners) جن کی سالانہ آمدنی 1 کروڑ روپے سے زائد تھی ان پر عائد 9 فیصد اضافی انکم سرچارج اب صفر کر دیا گیا ہے جس سے برین ڈرین (Brain Drain) کو روکنے اور ملکی ٹیلنٹ کو پاکستان میں ہی روکنے میں مدد ملے گی۔






