پنجاب بھر کے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، کافی شاپس اور شادی ہالوں کے مالکان اور وہاں کھانا کھانے کے شوقین شہریوں کے لیے ایک بڑی اور اہم ترین ریگولیٹری خبر سامنے آئی ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے صوبے میں ٹیکس چوری کا سدِباب کرنے اور مالیاتی نظام میں شفافیت لانے کے لیے پنجاب میں ریسٹورنٹس کے نئے بلنگ قوانین کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
ان نئے قوانین کے تحت اب صوبے بھر کے تمام فوڈ پوائنٹس اور ہوٹلوں پر ہاتھ سے لکھی جانے والی روایتی رسیدوں، عارضی پرچیوں اور کچے بلوں کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پی آر اے کے ترجمان کے مطابق اب تمام سیلز اور لین دین کا ریکارڈ صرف اور صرف الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹلائز کرنا لازمی ہوگا۔
پری بلز اور کچن آرڈرز پر سخت پابندی
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ریسٹورنٹس اور کیفے کسٹمرز کو راغب کرنے یا ٹیکس بچانے کے لیے کچن آرڈر سلپس (KOs)، پری بلز یا سادہ کاغذ پر لکھی عارضی پرچیاں تھما دیتے ہیں۔ پی آر اے نے کسٹمرز اور انتظامیہ دونوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ:
عارضی بلوں کا خاتمہ: کسی بھی ریسٹورنٹ کو کسٹمر کو عارضی بل یا کچن آرڈر سلپ بطور فائنل انوائس دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
گائیڈ لائنز کا ڈسپلے: تمام فوڈ چینز، ہوٹلوں اور کافی شاپس کے لیے لازمی ہے کہ وہ پی آر اے کی ان نئی ہدایات کو اپنے کاؤنٹر اور ریسٹورنٹ کے اندر نمایاں جگہوں پر ڈسپلے کریں تاکہ کسٹمرز ان سے باخبر رہیں۔
ادائیگی کے بعد رسید: شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ رقم کی ادائیگی کے فوراً بعد کمپیوٹرائزڈ ڈیجیٹل رسید کا مطالبہ کریں۔
پی آر اے کیو آر کوڈ اور ڈیجیٹل انوائس کی لازمی شرائط
نئے قوانین کے تحت اب ہر کمپیوٹرائزڈ رسید کا ایک خاص معیار مقرر کیا گیا ہے۔ گاہکوں کو بل ادا کرتے وقت رسید پر درج ذیل چیزوں کی تصدیق کرنی چاہیے:
بنیادی معلومات: بزنس کا درست نام، پتہ اور پنجاب ٹیکس پیئر رجسٹریشن نمبر بل پر واضح درج ہونا چاہیے۔
ٹیکس بریک ڈاؤن: بل میں آرڈر کی تفصیلات، ٹیکس سے پہلے کی رقم، لاگو ہونے والا ٹیکس ریٹ، اور کل قابلِ ادائیگی رقم الگ الگ لکھی ہونی چاہیے۔
پی آر اے کیو آر کوڈ : بل پر پی آر اے کا آفیشل انوائس نمبر اور ایک قابلِ اسکین کیو آر کوڈ ہونا ضروری ہے۔ کسٹمر اپنے اسمارٹ فون سے اس کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے یہ چیک کر سکتے ہیں کہ آیا ان کا ادا کردہ ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع ہوا ہے یا نہیں۔
کیش بمقابلہ ڈیجیٹل پیمنٹ: ٹیکس ریٹس میں بڑا فرق
حکومتِ پنجاب نے ڈیجیٹل اور کیش لیس اکانومی کو فروغ دینے کے لیے کسٹمرز کو ایک زبردست مالیاتی ریلیف بھی دیا ہے۔ اگر آپ ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہیں تو آپ کے بل پر ٹیکس کی شرح اس بات پر منحصر ہوگی کہ آپ ادائیگی کیسے کر رہے ہیں:
کیش پر ٹیکس: اگر آپ نقد رقم کے ذریعے بل ادا کرتے ہیں تو آپ کو 16 فیصد پورا سیلز ٹیکس دینا ہوگا۔
کارڈ یا ڈیجیٹل پیمنٹ پر ٹیکس: اگر آپ ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، موبائل والٹس یا کیو آر کوڈز کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں تو آپ کو 50 فیصد کی زبردست چھوٹ کے ساتھ صرف 8 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔
پی آر اے نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی ریسٹورنٹ ڈیجیٹل کارڈ یا آن لائن پیمنٹ لینے سے انکار کرے تو اس کی شکایت فوری طور پر درج کرائی جائے۔
قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور ریسٹورنٹس کو سیل کرنے کی وارننگ
ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے لیے تمام اضلاع کے کسٹمز اور ریونیو کمشنرز کو فیلڈ میں متحرک کر دیا گیا ہے۔ جو ریسٹورنٹ یا ہوٹل الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم (EIMS) کے بغیر کچے بل جاری کرتے ہوئے پکڑے گئے انہیں درج ذیل سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا:
مالیاتی جرمانہ: پہلی بار خلاف ورزی پر 4 لاکھ سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
بزنس سیل کرنا: مسلسل یا بار بار قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹ یا شادی ہال کو ایک ماہ کے لیے فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔
قانونی کارروائی: سیلز ریکارڈ میں ردوبدل کرنے یا سرکاری افسران کے کام میں مداخلت کرنے پر کمنل کسٹمز اور ریونیو ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔






