پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا کا ایک بڑا مرکز بنانے اور ملکی آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک لے جانے کے وژن کے تحت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ 17 اگست 2026 کو اسلام آباد میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) میں جاری اصلاحات اور آئی ٹی پارک کی تعمیراتی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک آؤٹ سورسنگ کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت کی ہے کہ اس میگا پراجیکٹ کے تمام تر آپریشنز اور انتظامی امور کو مکمل طور پر نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے پراجیکٹ کی تکمیل میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل التوا کا شکار منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کر کے فعال بنایا جائے۔
پراجیکٹ کی تکنیکی تفصیلات اور تاخیر پر وزیراعظم کی برہمی
سعودی کورین سافٹ لون اور حکومتی فنڈز کے اشتراک سے تیار ہونے والا یہ ٹیکنالوجی پارک پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید ترین آئی ٹی مرکز ہے۔ تقریباً 7 لاکھ 20 ہزار اسکوائر فٹ پر محیط اس مینوفیکچرنگ اور سائنسی ڈھانچے کے اندر 120 سے زائد نجی کمپنیوں کے دفاتر، جدید ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) لیبارٹریز، اسٹارٹ اپس کے لیے انکیوبیشن سینٹر اور ایک جدید ترین ‘ٹیئر تھری’ (Tier III) ڈیٹا سینٹر بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ سرکاری محکموں کی سستی کی وجہ سے آئی ٹی انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو لٹکانے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزراء احسن اقبال، احد چیمہ، مصدق ملک اور شزا فاطمہ خواجہ کی موجودگی میں حکم دیا کہ تعمیراتی کام کی رفتار کو چوبیس گھنٹے (24/7) مانیٹر کیا جائے تاکہ ملکی اور بین الاقوامی ٹیک کمپنیاں جلد از جلد یہاں اپنے آپریشنز شروع کر سکیں۔
نجی شعبے کو شامل کرنے کی بنیادی وجوہات
وزیراعظم ہاؤس کے میڈیا ونگ کے مطابق ٹیکنالوجی پارک کے آپریشنز کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا مقصد اس کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے سے درج ذیل اہم اہداف حاصل ہوں گے:
پیشہ ورانہ انتظام : نجی کمپنیاں عالمی تجربے کی بنیاد پر پارک کو زیادہ بہتر انداز میں چلا سکتی ہیں۔
سرکاری بیوروکریسی کا خاتمہ: مینوئل دفتری تاخیر اور ریڈ ٹیپ کا خاتمہ ہوگا، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔
عالمی نیٹ ورکنگ: نجی مینیجرز بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں (جیسے گوگل، مائیکروسافٹ) کو براہِ راست اسلام آباد لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
این آئی ٹی بی (NITB) اصلاحات اور ای آفس (e-Office) کا دائرہ کار
آئی ٹی پارک کے علاوہ وزیراعظم نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) کی کارکردگی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ این آئی ٹی بی کے اندر رائٹ سائزنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام کلیدی عہدوں پر بھرتیاں انتہائی شفاف میرٹ پر کی گئی ہیں۔
وزیراعظم نے وفاقی وزارتوں کے ای آفس سسٹم پر منتقل ہونے کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کڑی ہدایات جاری کیں کہ اب اس پیپر لیس ڈیجیٹل گورننس کا دائرہ کار تمام ماتحت محکموں اور سرکاری اداروں تک فوری طور پر پھیلایا جائے۔ انہوں نے شہریوں کو آسان، سستی اور جدید ترین ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری پورٹلز کو مزید بہتر کرنے کا حکم بھی دیا۔
کسٹمز اور سرکاری املاک کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کا حکم
ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو تیز بنانے اور ملک بھر میں موجود تمام سرکاری املاک ریکارڈ کو فوری طور پر کمپیوٹرائزڈ کرنے کی آخری تاریخ مقرر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ہی ہم کرپشن کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور ملکی ریونیو کو بڑھا سکتے ہیں۔






