پاکستان کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہترین اور باوقار مواقع فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک جامع مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ 18 اگست 2026 کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی پیشرفت جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ملک کی پہلی باقاعدہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے روڈ میپ پر مربوط اور مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر اعظم نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملک کے باصلاحیت اور ہنر مند نوجوانوں کو عزت دار روزگار فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس تاریخی پالیسی کا نفاذ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی مخلصانہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے تمام وزارتوں کے مابین باہمی تعاون اور ایک ٹھوس حکمت عملی ناگزیر ہے۔
نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے اہداف: خواتین اور پسماندہ صوبوں پر خصوصی توجہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے اہداف کے تحت ملک کے ان حصوں کو ترجیح دی جائے جو ماضی میں نظر انداز ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے درج ذیل امور پر خصوصی ہدایات دیں:
خواتین کو ہنر مند بنانا: پالیسی کے تحت ملک کی خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیوں کو جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تکنیکی مہارتیں سکھائی جائیں تاکہ وہ معاشی دھارے میں شامل ہو سکیں۔
PM @CMShehbaz directs to ensure coordinated and effective measures to provide employment opportunities to youth @PakPMO #RadioPakistan #news https://t.co/HVnhPciRUX pic.twitter.com/EVnLADzu3W
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 18, 2026
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوان: وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو روزگار اور کاروبار کے یکساں اور ترجیحی مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی پیکیجز تیار کیے جائیں۔
ماہانہ جائزہ اجلاس: پالیسی کی کارکردگی اور عمل درآمد کی رفتار کو مانیٹر کرنے کے لیے اب ہر ماہ باقاعدگی سے ایک اعلیٰ سطحی ریویو اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
(NAVTTC) اور سمیڈا (SMEDA) میں انقلابی اصلاحات کا نفاذ
ملکی افرادی قوت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے حکومت نے نیشنل وہیکل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور سمیڈا (SMEDA) جیسے اہم اداروں میں سٹرکچرل اور ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو ان مہارتوں سے لیس کیا جائے جن کی مانگ ملکی اور غیر ملکی صنعتوں میں سب سے زیادہ ہے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نافٹیک (NAVTTC) اب نوجوانوں کو ایسی ٹریننگ فراہم کر رہا ہے جس کے بعد انہیں بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز اور متعلقہ ممالک کی زبانوں پر عبور حاصل ہو سکے۔ یہ اہم قدم پاکستانی نوجوانوں کے لیے خلیجی ممالک، یورپ اور سینٹرل ایشیا کی لیبر مارکیٹس میں براہِ راست روزگار کے دروازے کھولے گا۔
ڈیجیٹل یوتھ ہب اور تعلیمی اداروں میں یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز کا قیام
نوجوانوں کو ملازمتوں کی معلومات تک آسان رسائی دینے کے لیے حکومت نے جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل یوتھ ہب : اس مرکزی آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک ہی جگہ پر تمام ملکی اور بین الاقوامی ملازمتوں، انٹرنشپس اور اسکلز ڈویلپمنٹ کے مواقع کا ڈیٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔
یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز : پاکستان کے تمام بڑے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی سیلز قائم کیے جا رہے ہیں جو طلباء کی کیریئر کونسلنگ کریں گے اور انہیں فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی مارکیٹ کی ضروریات سے آگاہ کریں گے۔
اجلاس کے آخر میں، وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام کے چیئرمین، رانا مشہود نے وزیر اعظم کو ان کی ہدایات پر اب تک کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ وزیر اعظم نے حکم دیا کہ اس پالیسی کے فوائد سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کے لیے ملک گیر سطح پر ایک بھرپور میڈیا اور آگاہی مہم کا فوراً آغاز کیا جائے۔






