حکومتِ پنجاب نے عید الاضحیٰ کے موقع پر صفائی ستھرائی کے نظام کو برقرار رکھنے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک انتہائی سخت اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبائی انتظامیہ نے قربانی کے بعد جانوروں کا فضلا، خون اور قربانی کے جانوروں کی اوجڑی گلیوں، سڑکوں یا کھلے مقامات پر پھینکنے والوں پر 50,000 روپے کا بھاری جرمانہ عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
عید کے ایام میں اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے لیے تمام بڑے شہروں میں خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں اور وزلنس اسکواڈز تشکیل دیے گئے ہیں جو رہائشی علاقوں کا گشت کریں گے۔ اگر آپ عید کے دوران کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو حکومت کی طرف سے جاری کردہ ان 3 بنیادی قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔
گلیوں، سڑکوں، نالیوں اور نہروں میں آلائشیں پھینکنے پر مکمل پابندی
نئے قانون کے تحت سب سے اہم اور سخت ترین قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی شہری اپنے گھر کا کچرا یا قربانی کا فضلا کھلی عوامی جگہوں پر نہیں پھینک سکتا۔
سرکاری قانون: گلی محلوں، شاہراہوں، خالی پلاٹوں، سیوریج کے نالوں یا قریبی نہروں میں قربانی کے جانوروں کی اوجڑی، اوجھڑی، اوجھ یا خون بہانے پر مکمل پابندی ہے۔
سزا اور جرمانہ: اگر فیلڈ ٹیموں یا سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کوئی بھی شخص آلائشیں سڑک پر پھینکتا ہوا پکڑا گیا تو اسے موقع پر ہی 50 ہزار روپے کا چالان تھما دیا جائے گا اور بار بار خلاف ورزی پر قانونی مقدمہ بھی درج ہو سکتا ہے۔
وجہ: کھلے عام آلائشیں پھینکنے سے تعفن پھیلتا ہے بیماریاں جنم لیتی ہیں اور مونسون کی بارشوں کے دوران سیوریج کا پورا نظام بلاک ہو جاتا ہے جس سے شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
صرف مخصوص کلیکشن پوائنٹس اور بائیو ڈیگریڈیبل بیگز کا استعمال
پنجاب حکومت نے شہریوں کی سہولت کے لیے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو متحرک کر دیا ہے تاکہ عوام کو کچرا خود دور پھینکنے کی ضرورت نہ پڑے۔
سرکاری قانون: قربانی کے بعد تمام فضلہ اور قربانی کے جانوروں کی اوجڑی کو حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مخصوص بائیو ڈیگریڈیبل (مٹی میں حل ہو جانے والے) پلاسٹک بیگز میں اچھی طرح بند کر کے اپنے گھر کے باہر رکھنا ہوگا یا قریبی ویسٹ بن (کچرے دان) میں ڈالنا ہوگا۔ یہ بیگز Lahore Waste Management Company (LWMC) اور دیگر شہروں کی مقامی ویسٹ کمپنیوں کی طرف سے بالکل مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔
چوبیس گھنٹے آپریشن: عید کے تینوں دن تمام اضلاع میں ویسٹ مینجمنٹ کی گاڑیاں اور عملہ 72 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی پر مامور رہے گا۔ شہری صفائی سے متعلق کسی بھی شکایت یا معلومات کے لیے Government of the Punjab کے آفیشل پورٹل یا ضلعی ہیلپ لائنز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
صرف منظور شدہ منڈیوں اور مخصوص نجی حدود میں ذبح کرنے کی اجازت
صوبائی حکومت نے عید سے قبل اور عید کے دوران جانوروں کی خرید و فروخت اور ان کو ذبح کرنے کے لیے بھی حدود کا تعین کر دیا ہے۔
سرکاری قانون: شہروں کے اندر گلیوں اور رہائشی شاہراہوں پر غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم کرنے پر پابندی ہے۔ جانوروں کی خرید و فروخت صرف حکومت کی طرف سے نامزد کردہ سیل پوائنٹس پر ہی کی جا سکتی ہے۔گھروں میں صفائی کا معیار: اگرچہ شہریوں کو اپنے گھر کے صحن یا چاردیواری کے اندر قربانی کرنے کی اجازت ہے لیکن ذبح کرنے کے فوراً بعد خون کو پانی سے صاف کرنا اور اس جگہ پر چونا (Lime Powder) یا جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کرنا لازمی ہے تاکہ بدبو کا خاتمہ ہو سکے۔ انتظامیہ کی جانب سے عیدگاہوں اور کھلے میدانوں میں جہاں اجتماعی قربانی ہوتی ہے مسلسل سپرے کا عمل جاری رہے گا۔






