وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے غریب اور متوسط طبقے کو چھت فراہم کرنے کے لیے جاری کردہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عام آدمی کو سستی رہائش فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس ہاؤسنگ اسکیم کا بنیادی مقصد ہی بے گھر خاندانوں کو اپنے گھر کا مالک بنانا ہے۔
ہاؤسنگ پراجیکٹس کے لیے ورٹیکل اور ہورائزنٹل ماڈل
اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اسکیم کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک جامع اور جدید اسٹریٹجک پلان مرتب کریں۔ انہوں نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت ہاؤسنگ پراجیکٹس کے لیے ورٹیکل (Vertical) یعنی کثیر المنزلہ فلیٹس اور ہورائزنٹل (Horizontal) یعنی گھروں اور پلاٹوں کے دونوں ماڈلز پر بیک وقت کام کیا جائے تاکہ زمین کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور کم لاگت میں زیادہ خاندانوں کو رہائش مل سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور تمام پراجیکٹس کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔
Prime Minister @CMShehbaz has directed the officials concerned to accelerate work on 'Apna Ghar Scheme'@PakPMO #RadioPakistan #news https://t.co/tjVDTb1NdD pic.twitter.com/R5smxYF1Ox
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 28, 2026
پبلک اور پرائیویٹ بینکوں کے لیے فنانسنگ کی خصوصی ہدایات
وزیر اعظم نے ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی میں بینکوں کے کلیدی کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور نجی دونوں بینکوں کو اس قومی مقصد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے تمام بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے غریب اور تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ آسان شرائط پر ہاؤسنگ فنانسنگ (قرضے) فراہم کریں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب تک بینک عام آدمی کے لیے قرضوں کے حصول کا طریقہ کار آسان نہیں بنائیں گے تب تک کم آمدنی والے افراد کا اپنے گھر کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں ہے۔
اربوں روپے کے ہاؤسنگ لونز اور اب تک کی مالی پیش رفت
اجلاس میں وزیراعظم کو اسکیم کی اب تک کی مالیاتی کارکردگی اور بینکوں کے تعاون پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کسٹمرز کو جاری کیے جانے والے قرضوں کے حوالے سے اہم اعداد و شمار پیش کیے گئے۔
اسکیم کی اب تک کی مالیاتی پیش رفت درج ذیل ہے:
منظور شدہ فنڈز: پبلک اور پرائیویٹ بینکوں نے اب تک اس ہاؤسنگ اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 204 ارب روپے کے قرضے منظور کر لیے ہیں۔
جاری کردہ رقم: منظور شدہ فنڈز میں سے اب تک 27 ارب روپے کی فنانسنگ (قرضوں کی فراہمی) کا عمل کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے جس سے ہزاروں خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔
درخواستوں کی اسکریننگ: بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باقی ماندہ منظور شدہ فنڈز کی جلد منتقلی کے لیے درخواستوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو تیز کریں۔
حکومتِ پاکستان کا یہ اقدام ملک میں موجود لاکھوں گھروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو مانیٹرنگ مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ ریلیف صرف حقدار لوگوں تک پہنچے۔






