پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں مشرقِ وسطیٰ اور فلسطین کی نازک صورتحال پر ہونے والے حالیہ اہم اجلاس میں ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں مستقل امن کے لیے جنگ بندی کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا کہ جنگ بندی کے ابتدائی اعلانات کے باوجود زمینی سطح پر مظالم کا سلسلہ نہیں رکا اور اب تک 1,100 سے زائد مزید معصوم فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کا اجلاس اور غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال
پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کے دوران غزہ کی پٹی میں جاری انسانی المیے کے ہولناک اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے بتایا کہ اس وقت غزہ کی تقریباً 20 لاکھ سے زائد آبادی کو ان کے اپنے ہی وطن میں محض 30 فیصد تک کے انتہائی محدود اور تنگ علاقے تک محصور کر دیا گیا ہے۔ یہ محصور آبادی بنیادی انسانی حقوق، ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم ہو کر انتہائی تباہ کن اور ہولناک زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
پاکستانی مندوب نے ان انٹیلیجنس اور سیٹلائٹ رپورٹس کا بھی خصوصی ذکر کیا جن کے مطابق غزہ کی پٹی کے گرد ایک بہت بڑی مٹی کی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد غزہ کے لگ بھگ 70 فیصد اسٹریٹجک علاقے پر غیر قانونی قبضے کو مستقل بنانا اور وہاں اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور آبادیاتی تبدیلیوں کی مخالفت
غزہ میں جنگ بندی پر پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی تمام غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو فوری طور پر رکوانے کا حکم دے۔ پاکستان نے عالمی فورم پر واضح کیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، زمینوں کے الحاق کی کسی بھی کوشش اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ہر سازش کو یکسر مسترد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کا احترام قائم رکھنے کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرے۔
آزاد فلسطینی ریاست اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کا فارمولا
پاکستان نے سلامتی کونسل کے سامنے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل اور پائیدار امن کے حصول کا واحد قابلِ قبول حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں امن تب ہی ممکن ہے جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
پاکستان کے تجویز کردہ بنیادی امن نکات درج ذیل ہیں:
1967 سے پہلے کی سرحدیں: آزاد فلسطینی ریاست کا قیام 1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
القدس الشریف دارالحکومت: بیت المقدس (Al-Quds Al-Sharif) کو اس خودمختار فلسطینی ریاست کا مستقل اور واحد دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔
علاقائی خودمختاری کا تحفظ: پاکستان خطے کے تمام برادر مسلم ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت: تمام فریقین حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ضبطِ نفس کا مظاہرہ کریں اور "اسلام آباد موو” (Islamabad MoU) کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔
اپنے خطاب کے آخر میں عاصم افتخار احمد نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے مستقل امن اور استحکام کے حصول کے لیے اپنا ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔






