جب وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کی فیملی عدالتوں سے یہ خبر آتی ہے کہ محض ایک ہی دن کے اندر دو سو سے زائد طلاق اور خلع کے مقدمات دائر کیے گئے ہیں تو پورا معاشرہ ایک لمحے کے لیے لرز اٹھتا ہے۔ یہ چونکا دینے والے اعداد و شمار صرف کاغذ کے چند ٹکڑے یا قانونی فائلیں نہیں ہیں بلکہ یہ ہمارے اس خاندانی نظام کے اندر لگی ہوئی آگ کا دھواں ہیں جسے ہم فخر سے دنیا کا بہترین نظام قرار دیتے تھے۔ راولپنڈی میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح دراصل ایک خاموش سماجی زلزلے کی مانند ہے جو ہماری روایات، رشتوں کے تقدس اور ہماری اگلی نسلوں کے مستقبل کو اپنے ملبے تلے دبا رہا ہے۔ یہ المیہ کسی ایک فرد یا ایک جوڑے کی ناکامی نہیں، بلکہ یہ پورے سماجی، معاشی اور نفسیاتی ڈھانچے کا فکری زوال ہے جس کا ہم سب حصہ ہیں۔
معاشی پسماندگی اور گھریلو زندگی کا جہنم
اس بحران کا سب سے کڑوا اور بنیادی سبب وہ معاشی پریشر ککر ہے جس کے اندر آج کا ہر عام پاکستانی خاندان سانس لے رہا ہے۔ جب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہو، بجلی اور گیس کے بل غریب اور مڈل کلاس طبقے کی کمر توڑ رہے ہوں اور کچن کا راشن پورا کرنا ایک روزمرہ کا جہاد بن چکا ہو، تو گھر کی چار دیواری میں سکون کا تصور محال ہو جاتا ہے۔ جب مرد پورے دن کی کڑی مشقت کے بعد بھی بچوں کی فیسیں اور دوا کے پیسے پورے نہیں کر پاتا تو وہ ایک شدید احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ معاشی تناؤ گھر لوٹتے ہی چڑچڑے پن، تلخ کلامی اور بالآخر گھریلو تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ فیملی کورٹس کے ریکارڈز اور ماہرینِ قانون کے مطابق آج کل عدالتوں کا رخ کرنے والی 75 فیصد سے زائد خواتین کا بنیادی گلہ یہی ہوتا ہے کہ ان کا شوہر گھر کے اخراجات پورے نہیں کرتا یا مالی تنگی کا غصہ ان پر نکالتا ہے۔ غربت اور مفلسی نے محبت اور برداشت کے جذبوں کو اس بری طرح چاٹ لیا ہے کہ اب معمولی مالی بحث بھی ایک خوبصورت رشتے کے خاتمے کا سبب بن جاتی ہے۔
شعور کی بیداری، سوشل میڈیا اور بدلتے ہوئے صنفی کردار
اس مسئلے کا دوسرا اہم ترین پہلو وہ گہری سماجی تبدیلی ہے جو ہماری نئی نسل میں رونما ہو رہی ہے۔ تعلیم کے فروغ اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کی یلغار نے خواتین کو ان کے حقوق سے روشناس کروایا ہے۔ ماضی کی عورت معاشرتی بدنامی، میکے کے طعنوں اور پدرسری نظام کے خوف سے ایک زہریلے ، پرتشدد اور تذلیل آمیز رشتے کو زندگی بھر برداشت کرنے پر مجبور ہوتی تھی۔ اسے سکھایا جاتا تھا کہ جس گھر سے ڈولی اٹھی ہے وہاں سے اب جنازہ ہی نکلنا چاہیے۔
لیکن آج کی عورت، خاص طور پر راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہری علاقوں میں، ذہنی اذیت پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ جانتی ہے کہ عزتِ نفس اور ذہنی سکون کسی بھی رشتے سے زیادہ اہم ہیں۔ تاہم اس تصویر کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی رنگین اور پرفیکٹ لائف نے نوجوان جوڑوں میں حقیقت پسندی کو ختم کر دیا ہے۔ فلموں اور ڈراموں کو دیکھ کر بنائی جانے والی غیر حقیقی توقعات جب شادی کے بعد کچن کے ٹھنڈے چولہے اور زمینی سچائیوں سے ٹکراتی ہیں تو خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں اور انا کی جنگ شروع ہو جاتی ہے جہاں کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہوتا۔
مشترکہ خاندانی نظام کے تضادات اور روایتی ثالثی کی موت
ہمارے ہاں آج بھی شادی کو دو افراد کے بجائے دو خاندانوں کا ملاپ سمجھا جاتا ہے لیکن یہی خوبصورتی اب سب سے بڑا ناسور بنتی جا رہی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں ساس، سسر اور نندوں کی بے جا مداخلت، میاں بیوی کو ذاتی اسپیس نہ دینا اور ہر بات پر ججمنٹل ہونا نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔ جب بات جھگڑے تک پہنچتی ہے تو خاندانی بزرگ مصالحت کروانے کے بجائے اکثر اپنی انا کو بیچ میں لے آتے ہیں اور بات کو سلجھانے کے بجائے مزید بگاڑ دیتے ہیں۔
سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارا روایتی پنچائتی یا خاندانی ثالثی کا نظام اب دم توڑ چکا ہے۔ بڑے بزرگ اب وہ اثر و رسوخ نہیں رکھتے جو کبھی رشتوں کو جوڑ کر رکھتا تھا۔ اب ہر چھوٹا بڑا معاملہ سیدھا تھانے اور کچہروں تک پہنچتا ہے جہاں وکیلوں کی بھاری فیسیں اور عدالتوں کا ماحول میاں بیوی کے درمیان بچی کچھی محبت اور عزت کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
نفسیاتی مسائل سے لاعلمی اور کونسلنگ کا فقدان
پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت کو ہمیشہ ایک مذاق یا عیب سمجھا گیا ہے۔ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد پیش آنے والے نفسیاتی مسائل پر بات کرنا یہاں گناہ سمجھا جاتا ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے مراحل کے دوران جن ذہنی الجھنوں اور ڈپریشن سے گزرتے ہیں، ان کے لیے ہمارے پاس کوئی ادارہ جاتی سپورٹ موجود نہیں ہے۔
مغربی ممالک یا دیگر ترقی یافتہ معاشروں میں میرج کونسلنگ کو ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں پیشہ ور ماہرینِ نفسیات ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو بچانے کے لیے سائنسی اور نفسیاتی طریقے اپناتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کوئی لڑکی یا لڑکا یہ کہے کہ وہ نفسیاتی معالج کے پاس جانا چاہتے ہیں، تو انہیں پاگل قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی خاموش ذہنی اذیت اندر ہی اندر ایک لاوے کی طرح پکتی رہتی ہے اور ایک دن فیملی کورٹ میں طلاق کے دعوے کی صورت میں پھٹ جاتی ہے۔
بکھرتی ہوئی نسلیں: بچوں کا مستقبل اور سماجی اثرات
راولپنڈی میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کا سب سے دردناک پہلو وہ معصوم بچے ہیں جو ان ٹوٹتے ہوئے گھروں کے ملبے تلے دب جاتے ہیں۔ جب ایک ماں اور باپ الگ ہوتے ہیں تو بچہ ایک مستقل احساسِ محرومی، خوف اور شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہو جاتا ہے۔ عدالتوں میں بچوں کی تحویل اور خرچے کے لیے لڑے جانے والے مقدمات بچوں کے ذہنوں پر ایسے گہرے زخم چھوڑتے ہیں جو زندگی بھر نہیں بھر پاتے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر اکثر باغی، چڑچڑے یا خود اعتمادی سے محروم ہو جاتے ہیں اور مستقبل میں ان کی اپنی ازدواجی زندگی بھی اسی ناکامی کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہم نادانی میں ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو اندر سے شدید نفسیاتی مریضوں پر مشتمل ہوگا۔
عدالتوں میں روزانہ دائر ہونے والے یہ سینکڑوں کیسز ہمارے لیے ایک فائنل الرٹ ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں اور نظام کو نہ بدلا، تو ہمارا پورا سماجی ڈھانچہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں درج ذیل ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے:
لازمی میرج کونسلنگ: نکاح نامے کی رجسٹریشن سے پہلے دولہا اور دلہن کے لیے کم از کم ایک میرج کونسلنگ سیشن قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے، جہاں انہیں حقوق و فرائض اور برداشت کا سبق سکھایا جائے۔
عدالتی اصلاحات: فیملی کورٹس میں ججوں کی تعداد بڑھائی جائے اور رسمی مصالحتی کمیٹیوں کے بجائے پیشہ ور سماجی ماہرین اور ماہرینِ نفسیات کو عدالتوں کا حصہ بنایا جائے تاکہ وہ میاں بیوی میں صلح کروانے کی حقیقی کوشش کریں۔
معاشی اور سستے انصاف کی فراہمی: حکومت کو چاہیے کہ وہ خواتین کے حقوق، مہر کی رقم اور بچوں کے نان نفقہ کے قوانین کو اتنا سخت اور فوری بنائے کہ کوئی بھی مرد کسی عورت کی زندگی خراب کرنے سے پہلے سو بار سوچے اور ساتھ ہی جھوٹے الزامات کی روک تھام بھی کی جائے۔
طلاق کوئی حل نہیں بلکہ ایک آخری راستہ ہے لیکن جب یہ ایک وبائی شکل اختیار کر لے، تو سمجھ لیں کہ پورا جسم بیمار ہو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی انا کی دیواروں کو گرائیں، رشتوں میں برداشت، محبت اور حقیقت پسندی کو واپس لائیں، ورنہ یہ ٹوٹتے ہوئے آشیاں ہماری پوری تہذیب کو نگل جائیں گے۔






