پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا اور انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے حکومتی سختیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ "سوشل میڈیا پر گرفتاری کے قوانین” بھی مزید سخت اور واضح کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) پنجاب کے ڈائریکٹر محمد علی وسیم کی ہدایت پر صوبے بھر میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور عام صارفین کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے جس کے تحت متعدد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس نئی وفاقی ایجنسی کو سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا، ہراساں کرنے اور افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ ایسے میں ہر پاکستانی صارف کے لیے سوشل میڈیا پر گرفتاری کے قوانین اور ان کی قانونی حدود کو سمجھنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے تاکہ وہ کسی بھی غیر ارادی قانونی گرفت سے محفوظ رہ سکیں
پیکا (PECA) قانون اور NCCIA کا دائرہ اختیار
پاکستان میں آن لائن جرائم اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA 2016) نافذ العمل ہے۔ پہلے یہ اختیارات ایف آئی اے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ کے پاس تھے لیکن اب حکومت نے اسے اپ گریڈ کر کے ایک خود مختار ادارہ یعنی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) قائم کر دیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا پر کی جانے والی مخصوص خلاف ورزیوں پر 5 سے 15 سال تک قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کون سی سرگرمیاں قانونی طور پر جرم ہیں؟
اگر آپ فیس بک، ایکس (ٹویٹر)، واٹس ایپ، یا انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں تو درج ذیل سرگرمیاں آپ کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکتی ہیں:
1۔ ریاست اور اداروں کے خلاف مہم (Anti-State Propaganda)
موجودہ کریک ڈاؤن کا سب سے بڑا محور ریاست مخالف مواد ہے۔ قانون کے تحت پاک فوج، عدلیہ اور حکومتی عہدیداروں کے خلاف منظم پراپیگنڈا یا تضحیک آمیز مہم چلانا سنگین جرم ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے مختلف شہروں سے گرفتار ہونے والے افراد پر اسی دفعہ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
2۔ جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانا (Spreading Fake News)
بغیر تصدیق کے کوئی بھی ایسی معلومات شیئر کرنا جس سے پبلک آرڈر (عوامی امن و امان) خراب ہونے کا خطرہ ہو یا عوام میں خوف و ہراس پھیلے، پیکا قانون کی دفعہ 18 کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے۔
3۔ آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ (Cyber Harassment)
کسی کی ذاتی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات اس کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر شیئر کرنا، فیک پروفائل بنانا یا کسی کو ڈیجیٹل ذرائع سے بلیک میل کرنا آپ کو 3 سے 14 سال تک کے لیے جیل بھیج سکتا ہے۔
4۔ سائبر فراڈ اور واٹس ایپ ہیکنگ (Digital Fraud)
لوگوں کو سرکاری افسر بن کر کال کرنا، انعامات کا لالچ دے کر بینک ڈیٹا چوری کرنا، یا واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کر کے پیسے بٹورنا بھی NCCIA کے ترجیحی اہداف میں شامل ہے اور حال ہی میں لاہور سے اس میں ملوث ایک بڑا گروہ گرفتار کیا گیا ہے۔
قانونی کارروائی سے کیسے بچا جائے؟
سوشل میڈیا پر محفوظ رہنے کے لیے درج ذیل باتوں پر سختی سے عمل کریں:
کسی بھی حساس یا سیاسی پوسٹ کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی سچائی کی تصدیق لازمی کریں۔
انٹرنیٹ پر کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے گریز کریں۔
اپنے واٹس ایپ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ٹو-اسٹیپ ویریفیکیشن لازمی آن رکھیں تاکہ ہیکنگ سے بچا جا سکے۔سائبر کرائم کے قوانین اور پیکا ایکٹ کی تفصیلی دفعات کا مطالعہ کرنے کے لیے آپ قومی اسمبلی پاکستان (National Assembly) کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود اصل قانونی دستاویز دیکھ سکتے ہیں۔






