پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ جیو پولیٹیکل، بحری، فضائی اور سفارتی کوریڈورز کی مضبوطی کے تسلسل میں ایک انتہائی پروقار اور اہم ترین جیو پولیٹیکل پیشرفت سامنے آئی ہے۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مملکتِ سعودی عرب کے 96ویں قومی دن کے تاریخی موقع پر سعودی قیادت اور وہاں کے برادر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
آج، 23 ستمبر 2026 کو خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو بھیجے گئے اپنے الگ الگ خصوصی سفارتی پیغامات میں پاکستانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ سعودی قومی دن مبارکباد کا یہ موقع دونوں مسلم ممالک کے مابین عقیدے، مشترکہ تاریخ، گہری دوستی، باہمی اعتماد اور یکجہتی کے لازوال رشتوں کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ریاستوں کا سوفٹ وئیر بیسڈ اور مینوفیکچرڈ الائنس خطے میں امن و امان کے انڈیکس کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور پیپر لیس فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
دفاعی معاہدوں کا آڈٹ اور فوجی الائنس کی تجدید
اپنے پریس ریلیز مینوئل میں صدر آصف علی زرداری نے دونوں ممالک کے مابین سیکیورٹی کوریڈورز کی مضبوطی پر خصوصی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے خطے کی سلامتی کے ضامن ہیں۔
صدرِ پاکستان نے اپنے پیغام میں درج ذیل دو اہم ترین اسمارٹ سیکیورٹی کٹس کا احاطہ کیا:
اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ : اس معاہدے کے نفاذ نے دونوں ممالک کے مابین فوجی تعاون، لائیو انٹیلی جنس شیئرنگ اور جوائنٹ ملٹری مینوفیکچرنگ پلانٹس کی مانیٹرنگ کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ کر دیا ہے۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس اگریمنٹ : اس تاریخی فریم ورک نے پاکستان اور سعودی عرب کی دیرینہ دفاعی شراکت داری کو ایک نئی اور اسمارٹ جہت فراہم کی ہے جس کا مقصد خلیجی ممالک اور بحیرہ عرب کے سمندری راستوں کو لائیو خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ صدر نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ برادرانہ تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کے معاشی اشاریوں کو مستقل فائدہ پہنچائیں گے۔
وژن 2030، جدت پسندی اور شعائرِ اسلام کے تحفظ کا فول پروف فریم ورک
دوسری جانب، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور وژنری قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ولی عہد کی سرپرستی میں سعودی عرب وژن 2030 کے تحت جدید ترین انفراسٹرکچر، آرٹیفیشل انٹیلی جنس پورٹلز اور سائنسی و معاشی جدت پسندی کی جانب ریکارڈ ساز رفتارسے گامزن ہے جس سے سعودی ریوینیو اور کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس مستقل طور پر اوپر جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے درج ذیل تین بنیادی پیرامیٹرز لاک کیے:
خود مختاری کا غیر مشروط تحفظ: پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سیکیورٹی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے چوبیس گھنٹے، شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ: حرمین شریفین اور اسلام کے مقدسات کی حرمت کی حفاظت کے لیے پاکستان کی افواج اور عوام کسی بھی مینوئل یا ڈیجیٹل تھریٹ کے خلاف فولاد کی طرح مضبوط دیوار ثابت ہوں گے۔
ایس آئی ایف سی کلاؤڈ انویسٹمنٹ: وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ برادرملاقاتیں اور سفارتی ہینڈ شیک کسٹمز بہت جلد نجی کارپوریٹ مینیجرز کے لیے نئے کیش لیس کوریڈورز کھولیں گے، جس سے پاکستان کے آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں سعودی فنڈز (PIF) کا گراف بلند ہوگا۔ یہ دور رس سفارتی رخ بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ دے گا۔






