بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی پر بڑھتے ہوئے حملوں کے نتیجے میں پاکستان کو ایک گہرا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تنزانیہ کے پرچم تلے سفر کرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حوثی باغیوں کے حالیہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس اندوہناک واقعے میں تین پاکستانی ملاح جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے، جس پر حکومتِ پاکستان نے شدید سفارتی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک باضابطہ بیان میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے چھ پاکستانی ملاح بحفاظت پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، فرائض کی ادائیگی کے دوران زندگی کی بازی ہارنے والے دو پاکستانی ملاحوں کے جسدِ خاکی بھی تمام تر قانونی اور سفارتی مراحل مکمل کرنے کے بعد وطنِ عزیز منتقل کر دیے گئے ہیں۔
سمندری ملاحوں کے تحفظ کا مطالبہ اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بین الاقوامی برادری اور بحری سیکیورٹی کے اداروں پر زور دیا کہ عالمی تجارتی راستوں پر کام کرنے والے ملاحوں کے تحفظ اور سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم سویلین اور تجارتی بحری جہازوں کو جنگی تنازعات کا نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست اس کٹھن گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت جاں بحق ہونے والے ملاحوں کے پسماندگان اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہر ممکنہ طبی، مالی اور انتظامی امداد فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور ان کی بحالی تک تمام اقدامات کی نگرانی خود کرے گی۔
سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کا کلیدی کردار
اس پیچیدہ سفارتی آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ یمن میں پاکستان کا کوئی باقاعدہ فعال سفارتی مشن موجود نہیں ہے۔ اس انتظامی خلا کے باوجود، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جدہ میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل اور ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کی فوری، انتھک اور مخلصانہ کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا، جنہوں نے ہنگامی بنیادوں پر کام کر کے یمن سے زخمیوں کے انخلاء اور لاشوں کی پاکستان منتقلی کو ممکن بنایا۔
اس آپریشن میں درج ذیل سٹرکچرل اور انتظامی اداروں نے اہم کردار ادا کیا:
پاکستانی سفارتی مشنز: جدہ اور ریاض کے سفارت کاروں نے جنگ زدہ علاقے سے ملاحوں کو نکالنے کے لیے چوبیس گھنٹے سفارتی چینلز کا استعمال کیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ کا تعاون: سعودی عرب کی حکومت اور وزارتِ خارجہ نے جدہ پہنچنے والے زخمی پاکستانیوں کو بہترین اور فوری طبی امداد فراہم کی اور ان کی آگے روانگی کے لیے تمام تر سفری سہولیات کا انتظام کیا۔
ایف آئی اے اور مقامی ادارے: وفاقی تحقیقاتی ادارے اور پاکستان کسٹمز کے حکام نے ہوائی اڈے پر پہنچنے والے ملاحوں کی بائیومیٹرک تصدیق اور پاسپورٹ کلیئرنس کے عمل کو مینوئل تاخیر کے بغیر انتہائی آسان اور تیز رفتار بنایا۔
عالمی تجارتی کوریڈورز میں بحری سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر اور باب المندب کے خطے میں تجارتی جہازوں پر ڈرون اور میزائل حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر کی مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار بحری ریاست کے طور پر بین الاقوامی پانیوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے اپنی نیوی کے ذریعے کردار ادا کیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھاتا رہے گا اور ایسے بزدلانہ حملوں کے سدِباب کے لیے دوست ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔






