پاکستان کے مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ملک کے مالیاتی نظام، کرنسی مینجمنٹ اور مینوفیکچرنگ لاگت کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے اور تزویراتی فیصلے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ مرکزی بینک بڑھتی ہوئی طباعتی لاگت کے باعث 10 روپے کے کاغذی نوٹ کو مستقل طور پر بند کرنے اور اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ مکمل طور پر رائج کرنے کی تجویز پر کام کر رہا ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اس اہم ترین اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلے چند سالوں کے دوران پبلک سرکولیشن میں چھوٹے نوٹوں کے پھٹنے کی شرح بہت زیادہ رہی ہے۔ اس انتظامی اور مالیاتی بوجھ کو کم کرنے کے لیے پاکستانی کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کا جو نیا سٹرکچرل روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے اس کے تحت آئندہ آنے والی نئی نوٹوں کی سیریز میں 10 روپے کا کاغذی نوٹ شامل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی جگہ صرف دھاتی سکہ ہی استعمال ہو گا۔
10 روپے کا کاغذی نوٹ ختم کرنے کی بنیادی وجوہات اور معاشی بچت
اسٹیٹ بینک کے مینیجرز اور مائیگریشن ماہرین کے مطابق چھوٹے مالیت کے کاغذی نوٹوں کو برقرار رکھنا قومی خزانے پر ایک بڑا اور مسلسل معاشی بوجھ بن چکا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے درج ذیل اہم ترین معاشی اور سائنسی حقائق کارفرما ہیں:
مختصر لائف اسپین : اسٹیٹ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 10 روپے کا کاغذی نوٹ بازار میں شدید گردش کی وجہ سے صرف 6 سے 9 ماہ تک ہی کارآمد رہتا ہے جس کے بعد وہ پھٹ جاتا ہے اور اسے کلاؤڈ اسٹوریج یا مینوئل طریقے سے ضائع کرنا پڑتا ہے۔
سکوں کی طویل میعاد: اس کے برعکس10 روپے کا دھاتی سکہ بازار میں بغیر کسی مینوفیکچرنگ خرابی کے 20 سے 30 سال تک باقاعدہ گردش میں رہ سکتا ہے۔
اربوں روپے کی بچت: حکام کا اندازہ ہے کہ کاغذی نوٹ کی جگہ سکے کو مستقل بنیادوں پر اپنانے سے اگلے ایک دہائی (10 سال) کے دوران حکومت کو 40 سے 50 ارب روپے کی خطیر مالیاتی بچت حاصل ہوگی۔ یہ اقدام گرین بینکنگ اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے بھی عین مطابق ہے۔
5000 روپے کے نوٹ کا نیا ڈیزائن اور جعلی کرنسی کا سدِباب
سینیٹ کمیٹی کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے مینیجرز نے واضح کیا کہ کرنسی کی منتقلی کا یہ عمل صرف 10 روپے تک محدود نہیں ہے بلکہ مرکزی بینک پاکستان کی تاریخ کی سب سے محفوظ ترین نوٹوں کی سیریز ڈیزائن کر رہا ہے۔ موجودہ کرنسی سیریز جو کہ 2005 سے مارکیٹ میں چل رہی ہے اب تکنیکی طور پر پرانی ہو چکی ہے اور اس میں جعلی نوٹوں کی بھرمار دیکھی گئی ہے۔
دھوکہ دہی اور بلیک منی کے خاتمے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
5000 روپے کے نوٹ کی ری ڈیزائننگ: 5000 روپے کا موجودہ نوٹ تقریباً 20 سال پہلے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اب اسے اگلے 20 سالوں کی سیکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ ڈیزائن کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی جعل سازی ناممکن بنائی جا سکے۔
پالیمر (پلاسٹک) نوٹوں کا ٹیسٹ: اسٹیٹ بینک وفاقی کابینہ کی گائیڈ لائنز کے مطابق آزمائشی بنیادوں پر پالیمر یا پلاسٹک بیسڈ پیپر کے نوٹ متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے جو کہ واٹر پروف اور انتہائی پائیدار ہوں گے۔
وفاقی کابینہ کی مانیٹرنگ اور حتمی منظوری کی ٹائم لائن
اسٹیٹ بینک کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کا مسودہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم خصوصی وفاقی کابینہ کمیٹی کو پیش کیا گیا تھا۔ کابینہ نے سیکیورٹی اشاریوں کو مزید سخت کرنے کے لیے ڈیزائنز میں کچھ سٹرکچرل تبدیلیاں تجویز کی ہیں جن پر کنسلٹنٹ کمپنی تیزی سے کام کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق جیسے ہی وفاقی کابینہ سے ان فائنل ڈیزائنوں کی قانونی اور رسمی منظوری حاصل ہو جائے گی اس کے بعد نئے نوٹوں کو مارکیٹ میں لانے اور پرانے نوٹوں کو مرحلہ وار منسوخ کرنے میں تقریباً ایک سال کا وقت لگے گا۔ تب تک 10 روپے کا کاغذی نوٹ مارکیٹ میں مکمل طور پر قانونی دستاویز کے طور پر فعال رہے گا اور عوام اسے بلا جھجک استعمال کر سکتے ہیں۔






