پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی فورم پر پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے واضح کیا کہ فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات ہی خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچا سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کا اصولی موقف
اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری معاملے پر حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں جس کے منفی اثرات پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔ پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسی یکطرفہ کارروائی سے گریز کریں جو علاقائی استحکام کو مزید نقصان پہنچائے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ عدم تعمیل کے تمام مسائل کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) جیسے تکنیکی اداروں کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔
ثالثی کی کوششیں اور اسلام آباد معاہدہ
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان تمام فریقین کو تشدد کا راستہ چھوڑ کر اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر زور دے رہا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور خطے میں پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ مسلسل سفارتی روابط اور بامقصد گفتگو میں ہی پنہاں ہے۔






