عالمی جیو پولیٹکس اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کے حوالے سے ایک بہت بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی اور انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ریاستہائے متحدہ امریکہ (US) اور ایران نے 17 اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل جنگ بندی میں توسیع پر باقاعدہ رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) کے تحت نافذ العمل 60 روزہ جنگ بندی کی مدت بڑھانے کے لیے اپنے نگرانوں اور سالسوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
یہ معاہدہ ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر تھی، اور اب دونوں فریقین سفارتی ذرائع سے اس بات چیت کو حتمی شکل دے رہے ہیں کہ اس بار جنگ بندی کی مدت کتنے دنوں یا مہینوں کے لیے بڑھائی جائے گی۔
اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت اور حالیہ بحران کا پس منظر
پاکستان نے رواں سال اپریل میں اپنی وسیع اور متوازن سفارتی نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا اور ایک عارضی جنگ بندی کرائی تھی۔ اس کے بعد، 17 جون 2026 کو دونوں ممالک نے اسلام آباد میں ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جس کے تحت 60 روز کے لیے دشمنی روکنے، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے اور مستقل امن کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
تاہم، جولائی کے مہینے میں سیکیورٹی ضمانتوں اور سمندری حدود کے حقوق پر اختلافات کے باعث یہ مذاکرات اچانک تعطل کا شکار ہو گئے۔ اس دوران 8 جولائی سے 24 جولائی کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی حملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس میں امریکہ نے ایران کے اندر بعض اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواب میں اردن، بحرین اور کویت جیسے ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی کارروائیاں کیں۔ اس کشیدگی نے دنیا کو ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا لیکن پاکستان نے ایک بار پھر اپنا تزویراتی کردار ادا کیا۔
پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار اور نئے مذاکرات
اس انتہائی نازک صورتحال میں جب 17 اگست کی ڈیڈ لائن سر پر تھی پاکستان نے اپنے سفارتی چینلز کو متحرک کیا۔ پاکستانی وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی نے تہران کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا نے واضح کیا کہ اسلام آباد دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ راستوں کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔
اس نئی جنگ بندی میں توسیع کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کو مزید وقت دینا ہے تاکہ وہ درج ذیل حل طلب مسائل پر تفصیلی گفتگو کر سکیں:
آبنائے ہرمز کی سلامتی: دنیا کی تیل اور گیس کی سپلائی کا 20 فیصد حصہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے جس کی مکمل بحالی عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
سیکیورٹی ضمانتیں: دونوں فریقین ایک دوسرے سے مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ٹھوس بین الاقوامی ضمانتیں مانگ رہے ہیں۔
پابندیوں کا خاتمہ: ایران اپنے اوپر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کا خواہشمند ہے۔
عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹ پر اثرات
امریکہ اور ایران کے درمیان اس عارضی جنگ بندی کے معاہدے سے عالمی توانائی کی مارکیٹوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس سے قبل جب کشیدگی بڑھی تھی تو برینٹ خام تیل کی قیمتیں 30 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں جس نے پوری دنیا میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کر دیا تھا۔
اب اسلام آباد میں ہونے والی اس پیش رفت اور جنگ بندی برقرار رہنے کی خبروں کے بعد خام تیل کی سپلائی چین مستحکم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے درآمدی ممالک کو معاشی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔






