پاکستان اور شام نے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے عسکری اور سفارتی روابط کو مزید پختہ کرنے کا عزم دہرایا ہے، جو پاک شام دفاعی تعاون کی تفصیلات کو اجاگر کرتا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ راولپنڈی میں قائم جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی ملاقات کی۔
آج، 21 اگست 2026 کو ہونے والی اس عسکری ملاقات کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول کا جائزہ لینا اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین دفاعی انٹیلی جنس شیئرنگ، تربیتی پروگرامز اور سیکیورٹی تعاون کے نئے افق تلاش کرنا ہے۔
علاقائی سلامتی کا ماحول اور باہمی مفادات پر تفصیلی گفتگو
جی ایچ کیو میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد کے امور، خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری مہمات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ عسکری حکام کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے دفاعی اور سیکیورٹی اداروں کے مابین جاری تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے سٹرکچرل روڈ میپ پر بھی بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران زیرِ بحث آنے والے اہم امور درج ذیل ہیں:
مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز: دونوں ممالک کو درپیش دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار کے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی تشکیل۔
عالمی امن کا بیانیے: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی امن اور علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کے اصولی اور نپے تلے بیانیے کو تفصیلی طور پر پیش کیا۔
کثیر الجہتی تعاون: چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض مینوئل دفتری خط و کتابت کے بجائے تیز رفتار روابط اور باہمی سائنسی و عسکری تعاون کے فروغ پر زور۔
Syrian FM @AsaadHShaibani along with the delegation called on Chief of Defense Forces Field Marshal Syed Asim Munir in #Rawalpindi. During the meeting, matters of mutual interest, regional security environment and avenues for enhanced bilateral defence and security cooperation… pic.twitter.com/UHjXn4xSGL
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 21, 2026
پاک شام دیرینہ برادرانہ تعلقات اور عالمی پوزیشن کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شامی وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور شام کے درمیان قائم دیرینہ اور تاریخی برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا خواہاں ہے۔
آرمی چیف نے زور دے کر کہا کہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ خطرات کا مقابلہ تنہا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے تمام دوست ممالک کے مابین تعمیری اور مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ پاکستان اپنی مینوئل عسکری تربیت اور لاجسٹکس کے طویل تجربے کی بنیاد پر شام کے دفاعی اداروں کی صلاحیت کار بڑھانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
شامی وزیر خارجہ کی جانب سے پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار کی تعریف
ملاقات کے دوران شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے علاقائی امن، استحکام اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے پاک فوج کے مائینڈ سیٹ، شاندار قربانیوں اور بے مثال پیشہ ورانہ کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کی عسکری مہارت اور اسٹریٹجک وزن کو تسلیم کرتی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف نے عزم ظاہر کیا کہ وہ نہ صرف موجودہ دفاعی معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد کریں گے بلکہ سیکیورٹی، مشترکہ عسکری مشقوں اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں اپنے تعلقات اور روابط کا دائرہ کار مزید وسیع کریں گے۔






