پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی لہر نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس آگ پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ مئی 2026 کے پہلے ہفتے میں جب پیٹرول کی قیمت تقریباً 399.86 روپے فی لیٹر تک پہنچ تو ایک عام تاثر یہ تھا کہ یہ سب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔ تاہم اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔
پیٹرول کی قیمت کا تفصیلی ڈھانچہ (Breakdown)
اگر ہم 399.86 روپے کی قیمت کو پرکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ یعنی تقریباً 153.55 روپے مختلف ٹیکسوں، لیوی اور مارجنز پر مشتمل ہے۔
| چارجز کی تفصیل | رقم (فی لیٹر) |
| پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) | 103.50 روپے |
| کسٹم ڈیوٹی | 23.72 روپے |
| کلائمیٹ سپورٹ لیوی | 2.50 روپے |
| ڈیلر کمیشن | 8.64 روپے |
| او ایم سی (OMC) مارجن | 7.87 روپے |
| ان لینڈ فریٹ مارجن (IFEM) | 7.32 روپے |
| کل پوشیدہ چارجز | 153.55 روپے |
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیٹرول کی اصل قیمت (Ex-Refinery Price) صرف 246.31 روپے کے قریب ہے۔
پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی: سب سے بڑا بوجھ
حکومت کی جانب سے عائد کردہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) عوام پر سب سے بڑا بوجھ ہے۔ آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے تحت حکومت اس لیوی کو بڑھانے پر مجبور ہے تاکہ ریونیو کے اہداف پورے کیے جا سکیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، 9 مئی 2026 سے اس لیوی میں مزید اضافہ کر کے اسے 117.41 روپے تک پہنچا دیا گیا ہے جس سے پیٹرول کی نئی قیمت 414.78 روپے ہو چکی ہے۔
کیا عوام کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے؟
پاکستان میں اس وقت جی ایس ٹی (GST) کی شرح پیٹرول پر 0% ہے۔ اگر حکومت چاہے تو پیٹرولیم لیوی یا کسٹم ڈیوٹی میں کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف دے سکتی ہے لیکن مالیاتی خسارے اور عالمی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔
مزید برآں، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سرکاری نرخنامے کی تصدیق کے لیے آپ اوگرا (OGRA) کی آفیشل ویب سائٹ یا پاکستان اسٹیٹ ائل (PSO) کے پرائس بورڈ کا معائنہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اب صرف عالمی منڈی کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ٹیکس وصولی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ جب آپ اپنی گاڑی میں ایک لیٹر پیٹرول ڈلواتے ہیں تو آپ صرف ایندھن نہیں خرید رہے ہوتے بلکہ قومی خزانے میں 153 روپے سے زائد کا براہ راست حصہ بھی ڈال رہے ہوتے ہیں۔






