پنجاب بھر میں سفر کرنے والے شہریوں، بائیک سواروں اور گاڑی مالکان کے لیے پنجاب ٹریفک چالان اور پوائنٹ سسٹم کے تحت ایک بڑی اور انتہائی اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے صوبے میں بڑھتے ہوئے روڈ حادثات پر قابو پانے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور ڈرائیورز میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لیے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے 12ویں شیڈول میں تاریخی ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ ان نئی ترامیم کے تحت نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی رقم میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے، بلکہ ایک جدید "لائسنس پوائنٹ سسٹم” بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
اگر آپ پنجاب کی سڑکوں پر گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہیں، تو چالان اور لائسنس کی منسوخی سے بچنے کے لیے پنجاب ٹریفک چالان اور پوائنٹ سسٹم کی یہ تفصیلی گائیڈ لازمی پڑھیں۔
ٹریفک لائسنس پوائنٹ سسٹم کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا بلیک پوائنٹس یا ڈی میرٹ پوائنٹس سسٹم بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت، اب جب بھی کوئی ڈرائیور ٹریفک سگنل توڑے گا، اوور اسپیڈنگ کرے گا یا کوئی اور قانون توڑے گا تو جرمانے کے ساتھ ساتھ اس کے ڈرائیونگ لائسنس سے پوائنٹس بھی کاٹ لیے جائیں گے۔
کیمبرج امتحانات کی ری شیڈولنگ یا عید کی چھٹیوں کے حکومتی نوٹیفکیشنز کی طرح یہ قانون بھی پورے صوبے میں یکساں نافذ العمل ہو چکا ہے۔ پوائنٹ سسٹم کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
لائسنس کی معطلی (License Suspension): اگر کوئی ڈرائیور ایک سال (12 ماہ) کے دوران ٹریفک قوانین کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے 20 پوائنٹس گنوا دیتا ہے تو اس کا ڈرائیونگ لائسنس فوری طور پر 6 ماہ کے لیے معطل کر دیا جائے گا۔
مدت میں اضافہ: سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں پر لائسنس کی معطلی کی یہ مدت ایک سال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
بار بار خلاف ورزی پر اضافی جرمانہ: اگر کوئی شخص ایک ہی ماہ کے اندر دوبارہ وہی غلطی دہراتا ہے، تو اس پر پچھلے چالان کے مقابلے میں 5 فیصد اضافی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
مختلف گاڑیوں کے لیے نئے ٹریفک جرمانوں کی تفصیل
نئے قانون کے مطابق، جرمانوں کا تعین گاڑی کے انجن کی صلاحیت (CC) اور گاڑی کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ پرانے نظام کے برعکس جہاں جرمانے بہت کم تھے، اب معمولی غفلت بھی جیب پر بھاری پڑ سکتی ہے۔
آفیشل شیڈول کے مطابق چند بڑی خلاف ورزیوں کے جرمانے درج ذیل ہیں:
ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی (Signal Violation): موٹر سائیکل کے لیے 2,000 روپے، عام کار (2000cc سے کم) کے لیے 5,000 روپے، اور بڑی لگژری گاڑیوں کے لیے 10,000 روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
بغیر لائسنس ڈرائیونگ (Driving Without License): بغیر لائسنس کار چلانے پر 5,000 روپے اور موٹر سائیکل پر 2,000 روپے چالان ہوگا۔
موبائل فون کا استعمال (Mobile Use While Driving): دورانِ ڈرائیونگ فون استعمال کرنے پر کار سوار کو 5,000 روپے جبکہ کمرشل گاڑیوں کو 15,000 روپے تک چالان بھرنا ہوگا۔
ون وے کی خلاف ورزی (Wrong Side Driving): غلط سمت میں گاڑی چلانے پر موٹر سائیکل کا 2,000 روپے اور کار کا 5,000 روپے چالان کاٹا جائے گا۔
بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانا: بائیک سواروں کے لیے ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ بڑھا کر 2,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
ان تمام جرمانوں اور قوانین کی آفیشل دستاویزات پنجاب ٹریفک پولیس کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن دیکھی جا سکتی ہیں۔
ای چالان اور ڈیجیٹل ادائیگی کا طریقہ کار
جدید انفراسٹرکچر کے تحت اب زیادہ تر چالان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے کیمروں کے ذریعے خودکار طریقے سے (E-Challan) کیے جاتے ہیں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے چالان جمع کرانے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے:
چالان ہوتے ہی ڈرائیور کے موبائل پر ایک PSID نمبر موصول ہوتا ہے۔
اس رقم کو کسی بھی موبائل بینکنگ ایپ، ایزی پیسہ یا جاز کیش کے ذریعے آن لائن ادا کیا جا سکتا ہے۔
چالان کی رقم 10 دن کے اندر جمع کرانا لازمی ہے بصورتِ دیگر ضبط شدہ دستاویزات یا گاڑی کا کیس عدالت (Court) بھیج دیا جاتا ہے۔
حکومتی قوانین اور ضوابط کی مزید معلومات کے لیے آپ حکومتِ پنجاب کے آفیشل پورٹل پر جا کر موٹر وہیکل آرڈیننس کی مکمل گائیڈ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
پنجاب حکومت کا یہ سخت اقدام سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں اور بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ لائسنس معطلی سے خود کو محفوظ رکھیں۔






